دلت کی بیٹی کی شادی میں بینڈ باجا اور جشن کی سزا ... کنویں میں ڈال دیا كراسن تیل

Apr 30, 2017 08:52 PM IST | Updated on: Apr 30, 2017 08:52 PM IST

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ماناگاؤں میں ایک دلت کی بیٹی کی دھوم دھام سے ہوئی شادی کو بمشکل ہفتہ بھر ہی گزرا ہواہوگا کہ یہاں کے دلت خاندانوں کو بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں کے تقریبا 500 دلت جس کنویں سے پانی بھرتے تھے، اس میں اچانک كراسن تیل پایا گیا ہے۔ دلتوں نے انتظامیہ کو فوری طور پر اس کی اطلاع دی، جس کے بعد کنویں سے پمپ کے ذریعے كراسن تیل ملا پانی نکالا گیا۔ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر كراسن تیل ڈالا گیاہے۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق دلتوں کا کہنا ہے کہ چونکہ چندر میگھوال نامی شخص نے دلتوں کی دھمکی کو نظر انداز کر کے اپنی بیٹی کی شادی خوب دھوم دھام سے کی تھی، اسی کے بدلے کے طور پر دبنگوں نے کنویں کے پانی کو خراب کرنے کی سازش کی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ 23 ​​اپریل کو مانا گاؤں میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ دلت سماج کے ایک جوڑے کی شادی میں بینڈ باجے کے ساتھ دھوم دھام سے بارات نکالی گئی تھی، لیکن اس کے لئے حکومت کو مسلح پولیس فورس تعینات کرنی پڑی تھی۔

دلت کی بیٹی کی شادی میں بینڈ باجا اور جشن کی سزا ... کنویں میں ڈال دیا كراسن تیل

photo : ndtv

شادی سے پہلے چندر میگھوال کو دبنگوں طرف وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے 'قوانین کو توڑا تو اس کے خاندان کو کنویں سے پانی نہیں بھرنے دیا جائے گا اور نہ ہی مقامی مندر میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ میگھوال نے کہا کہ چونکہ اس کی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کرنے میں دیگر دلت کنبوں نے بھی کھل کر حمایت کی تھی، لہذا پوری دلت کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ۔ اس نے بتایا کہ ہم سب پانی کے لئے اسی کنویں پر منحصر ہیں ... انہوں نے اس میں كراسن تیل ڈال دیا۔

کنویں کا پانی خراب ہو جانے کی وجہ سے دلت خاندانوں کی خواتین کو گزشتہ چھ دنوں سے دو کلومیٹر دور جا کر دریا سے پانی لانا پڑرہا ہے۔ اگرچہ ایک سینئر انتظامی افسر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دلت علاقہ میں دو ہینڈ پمپ لگائے جائیں گے، لیکن اس میں تھوڑا وقت لگے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز