الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر لگنےوالے الزامات پر الیکشن کمیشن نے دی یہ وضاحت

Apr 05, 2017 08:27 AM IST | Updated on: Apr 05, 2017 08:27 AM IST

بھوپال۔  مدھیہ پردیش کے ضلع بھنڈ کے اٹیر اسمبلی ضمنی انتخاب میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کو لے کر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے سلسلے میں ہندوستانی الیکشن کمیشن نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔ کل یہاں جاری سرکاری ریلیز کے مطابق سیاسی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ قانون کے مطابق ای وی ایم کو نتائج کا اعلان ہونے کی تاریخ سے 45 دن تک نہیں نکالا جا سکتا، لیکن مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات کیلئے ای وی ایم کو اترپردیش سے 11 مارچ 2017 کو نتائج کا اعلان ہونے کے بعد منتقل کرکے باہر لے جایا گیا۔

کمیشن کے مطابق کسی بھی انتخابات میں استعمال کی گئی ای وی ایم نتائج کا اعلان ہونے کے بعد اسٹرانگ روم میں رکھی جاتی ہیں اور انتخابی پٹیشن دائر کرنے کی میعاد ختم ہونے تک اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ انتخابی پٹیشن 45 دن کے اندر اندر درج کی جاتی ہے۔ ووٹر ویری فیکیشن پیپر آڈٹ ٹرائل (وي وي پيٹ) مشینوں کے معاملے میں مطبوعہ سلپ کو گنتی کے وقت حاصل کرکے لفافوں میں مہر بند کیا جاتا ہے اور صرف سیل بند سلپ کو ای وی ایم کے ساتھ اسٹرانگ روم میں رکھا جاتا ہے۔ قانون کے تحت وي وي پيٹ مشینیں اسٹرانگ روم میں رکھا جانا ضروری نہیں ہے اور وہ کسی دوسرے انتخابات میں استعمال کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ ضمنی انتخابات کیلئے صرف ان وي وي پيٹ مشین کو بھیجا گیا، جو مخصوص رکھی گئی تھی اور ووٹنگ کے دوران استعمال نہیں کی گئیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر لگنےوالے الزامات پر الیکشن کمیشن نے دی یہ وضاحت

علامتی تصویر

الیکشن کمیشن نے اس الزام کو بھی بے بنیاد بتایا ہے کہ اترپردیش سے ای وی ایم بھنڈ میں منتقل کی گئیں۔ کمیشن کے مطابق مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات کے لئے اتر پردیش سے کوئی ای وی ایم منتقل نہیں ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی موجودہ پالیسی کے مطابق ضمنی انتخابات کے لئے مختلف ریاستوں سے وي وي پيیٹ مشین کو مطلوبہ تعداد میں منتقل کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز