مدھیہ پردیش : گئو اسمگلر بتا کر جن نوجوانوں کی پٹائی کی گئی ، وہ کام کی تلاش میں آئے تھے یہاں 

Aug 04, 2017 09:37 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 09:37 PM IST

بیتول : مدھیہ پردیش کے بیتول ضلع میں کام کی تلاش میں آئے چار نوجوانوں کی گئو رکشک اور پولیس نے مل کر نہ صرف پٹائی کی تھی، بلکہ گئو اسمگلنگ کا ملزم بنا کر بھیج بھی دیا گیا تھا۔ یہ انکشاف ان نوجوانوں نے کیا ہے۔ گزشتہ دنوں مهدا تھانہ علاقہ کے ڈلاريا گاؤں میں دریا میں نہا رہے چار نوجوانوں کو گئو رکشکوں نے گئو اسمگلر بتاتے ہوئے پیٹنا شروع کر دیا، اسی دوران پہنچی پولیس نے بھی ان نوجواں  سریندر، روپ سنگھ، صغیر و افضل کو پیٹا اور گئو اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ تاہم ان چاروں نوجوانوں کو جمعرات کی رات کو دیر جیل سے رہا کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جیل سے رہا ہونے کے بعد ان نوجوانوں نے جمعہ کو  بتایا کہ وہ هردا ضلع کے رهٹ گاوں سے کام کی تلاش میں ڈلہاریاگاؤں پہنچے تھے، تبھی وہ دریا میں نہانے لگے۔ کچھ گئو ركشكوں نے ایک قبائلی کے گھر میں 18 جانوروں کو بندھا دیکھ کر انہیں گئو اسمگلر بتاتے ہوئے پیٹنا شروع کر دیا۔ بعد میں پولیس نے بھی پٹائی کی ۔

مدھیہ پردیش : گئو اسمگلر بتا کر جن نوجوانوں کی پٹائی کی گئی ، وہ کام کی تلاش میں آئے تھے یہاں 

پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈی آر تینيوار نے اس معاملے کی جانچ محکمہ جاتی افسر، پولیس (ایس ڈی او، پی) پریم سنگھ ٹھاکر کو سونپ دی ہے جو نوجوانوں کی پٹائی میں پولیس کے رول کی جانچ کریں گے۔ تینیوار کے مطابق نوجوانوں کی پٹائی کرنے والے تین گئو رکشکوں کے خلاف مارپیٹ کا معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز