اردو اکادمی نے پیش کی قومی یکجہتی کی مثال ، یہاں ہندواور مسلم اردو کلاسز سے ہورہے ہیں مستفید

ایک وقت تھا جب مد ھیہ پر دیش میں اردو زبان کوسرکاری درجہ حاصل تھا ، مگر مد ھیہ پردیش کی تشکیل کے بعد اس زبان کو تیسری زبان کا درجہ دے دیا گیا اور اب رفتہ رفتہ اس زبان کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

Apr 28, 2017 09:32 PM IST | Updated on: Apr 28, 2017 09:32 PM IST

بھوپال : مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور محکمہ ثقافت کے ذریعہ اردو کلا سز چلائی جا رہی ہیں ۔ اس اردو کلاس سے جہاں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہے وہیں قومی یکجہتی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ایک وقت تھا جب مد ھیہ پر دیش میں اردو زبان کوسرکاری درجہ حاصل تھا ، مگر مد ھیہ پردیش کی تشکیل کے بعد اس زبان کو تیسری زبان کا درجہ دے دیا گیا اور اب رفتہ رفتہ اس زبان کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تاہم اردو زبان کے فروغ کے لیے اردو اکادمی نے اردو کا ڈگری کورس شروع کیا ہے ۔ اس اردو کلاس کے شروع ہوتے ہی کلاس میں پچاس لوگوں نے داخلا لیا، جس میں مسلم طبقے کے ساتھ غیرمسلم طبقہ کے افراد بھی شامل ہیں ۔ مد ھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ چلائی جا رہی اردو کلاس میں سبھی طبقہ کے لوگوں کے ساتھ ہر عمر کے لوگ اس اردو کلاس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ جہاں غیر مسلم اردو کو میٹھی زبان کہہ کر شوق سے سیکھ رہے ہیں ، تو وہی کچھ لوگ اس زبان کو سیکھ روزگار کی تلاش کررہے ہیں ۔

اردو اکادمی نے پیش کی قومی یکجہتی کی مثال ، یہاں ہندواور مسلم اردو کلاسز سے ہورہے ہیں مستفید

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز