اجتماعی آبروریزی کے بعد چترا میں لڑکی کو زندہ جلایا

جھارکھنڈ میں ضلع چترا کے اٹهري تھانہ علاقہ کے راجہ کیندوا گاؤں میں ایک نابالغہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کے بعد مجرموں نے زندہ جلا دیا۔

May 05, 2018 11:12 PM IST | Updated on: May 05, 2018 11:12 PM IST

چترا۔ جھارکھنڈ میں ضلع چترا کے اٹهری تھانہ علاقہ کے راجہ کیندوا گاؤں میں ایک نابالغہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کے بعد مجرموں نے زندہ جلا دیا۔ پولس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ لڑکی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرنے گئی تھی جہاں چار لڑکوں نے اس کو اغوا کر لیا۔ اس کے بعد مجرموں نے اس کی اجتماعی عصمت دری کے زندہ جلا دیا۔ اس سے قبل ان لڑکوں نے اس کے ساتھ گاؤں میں اجتماعی آبروریزی کی تھی جس پر بلایا گئی پنچایت نے ان لڑکوں پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ کیا تھا۔ پنچایت کے حکم سے ناراض ہو کر مجرم نوجوانوں نے اس واردات کو انجام دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مجرموں نے نہ صرف لڑکی کو جلا کر مار ڈالا بلکہ اس کے خاندان والوں کی بھی بری طرح پٹائی کی۔ اس واقعہ کے بعد پولس موقع پر پہنچی اور لڑکی کی جلی ہوئی باقیات کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔ پولس سپرنٹنڈنٹ اکھلیش پی واريار اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ راجیو کمار جائے حادثہ پر موجود ہیں۔ واقعہ کے بعد سے تمام ملزم فرار ہیں۔

اجتماعی آبروریزی کے بعد چترا میں لڑکی کو زندہ جلایا

علامتی تصویر

اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں نامزد نوجوانوں کے ساتھ 10 نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو درجن سے زائد افراد کی گرفتاری کرلی گئی ہے، جبکہ کئی اب بھی فرار ہيں۔

دریں اثنا، جھارکھنڈ کے وزیر اعلی رگھوور داس نے اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا اور انہيں سخت سے سخت سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے دھنباد کے ڈپٹی کمشنر کو متاثرہ خاندان کو ایک لاکھ روپیہ فوری امداد دینے کا بھی حکم دیا۔ وزیر اعلی کی ہدایات کے بعد متاثرہ خاندان کو ایک لاکھ روپے کا چیک دے دیا گیا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز