جھارکھنڈ : بھوک سے دم توڑنے والی بچی کی مان پر گاوں والوں نے ڈھایا ستم ، پولیس نے دی سیکورٹی

Oct 22, 2017 05:10 PM IST | Updated on: Oct 22, 2017 05:10 PM IST

رانچی : جھارکھنڈ کے سمڈیگا ضلع میں جل ڈیگا ڈویزن میں واقع کاری ماٹی گاوں میں بھوک سے دم توڑ والی 11 سالہ سنتوشی کمار کی ماں کوئلا دیوی اور ان کا اہل خانہ اپنے گھر میں کافی خوفزدہ ہے۔ جمعہ کی شام سنتوشی کمار کے اہل خانہ کو کچھ لوگوں نے گھر میں گھس کر دھمکی ، ہنگامہ کیا اور گاوں سے نکل جانے کیلئے کہا ۔ اس دھمکی کے بعد ڈری ، سہمی کوئلا دیوی نے کسی طرح رات گزاری ۔ ہفتہ کی صبح کوئلا دیوی نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گاوں چھوڑ دیا ۔ سبھی نے پڑوس کے گاوں میں سنتوش ساہو کے گھر میں پناہ لی ۔

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد انتظامی سطح پر افرا تفری مچ گئی ۔ جوائنٹ کمشنر نے فوری طور پر جل ڈیگا بی ڈی او اور تھانہ انچارچ کو کوئلا دیوی کے اہل خانہ کو واپس اس کے گھر لانے کی ہدایت دی ۔ پولیس اور انتظامیہ کی ایک ٹیم گاوں پہنچی اور پوری سیکورٹی میں کوئلا دیوی اور اس کے اہل خانہ کو پانچ گھنٹے بعد واپس کاری ماٹی میں واقع اس کے گھر پہنچایا۔

جھارکھنڈ : بھوک سے دم توڑنے والی بچی کی مان پر گاوں والوں نے ڈھایا ستم ، پولیس نے دی سیکورٹی

غور طلب ہے کہ گیارہ سال کی سنتوشی کماری کو کئی دنوں سے کھانا نصیب ہوا تھا ، جس کی وجہ سے اس نے دم توڑ دیا تھا۔ دراصل مقامی راشن ڈیلر نے مہینوں پہلے اس کے اہل خانہ کا راشن کارڈ رد کرتے ہوئے اناج دینے سے انکار کردی تھا۔ رشن ڈیلر کا کہنا تھا کہ راشن کارڈ آدھار نمبر سے لنک نہیں ہے ، اسلئے اناج نہیں مل سکتا۔

اس واقعہ کی وجہ سے جھارکھنڈ حکومت کی کافی کرکری ہوئی تھی ۔ اب ریاستی حکومت نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے راشن کیلئے آدھار کی لازمیت کو ختم کردیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز