مدھیہ پردیش میں بچیاں ، لڑکیاں اور خواتین غیر محفوظ : جیوتیرادتیہ سندھیا

گزشتہ منگل کو مندسور میں سات سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کو قتل کرنےکی کوشش کی گئی تھی

Jul 01, 2018 11:51 AM IST | Updated on: Jul 01, 2018 11:51 AM IST
مدھیہ پردیش میں بچیاں ، لڑکیاں اور خواتین غیر محفوظ : جیوتیرادتیہ سندھیا

جیوتیرادتیہ سندھیا

اندور: مدھیہ پردیش کانگریس پرچار کمیٹی کے صدر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ جیوتیرادتیہ سندھیا نے ریاستی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بچیاں، لڑکیاں اور خواتین غیر محفوظ ہیں اور حکومت ان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مندسور میں اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل کی کوشش کا شکار ہونے والی سات سالہ معصوم بچی اندور کے مہاراجہ یشونت راؤ اسپتال (ا یم وائی ایچ ) میں داخل ہے۔ مسٹر سندھیا گزشتہ رات بچی کی صحت کی معلومات لینے اسپتال پہنچے تھے۔

اس دوران انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران ریاستی حکومت پر بے حسی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان ایک طرف اس طرح کے معاملات میں سخت قانون کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کی حکومت کے تابع نظام خواتین کے تحفظ میں ناکام ہے ۔  مسٹر سندھیا نے مزید کہا کہ وہ ریاست کا شہری ہونے کے ناطے یہ الزام لگا رہے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ متاثرہ خاندان کی ذہنی کیفیت اور بچی کی حالت پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ۔ مسٹر سندھیا نے سرکاری ایم وائی ایچ اسپتال میں بچی کے چل رہے علاج کے سوال پر کہا کہ انہیں ایم وائی ایچ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ وہ بہترین طریقے سے بچی کے علاج میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہم سب لوگوں سے زیادہ سمجھدار بچی کے علاج میں لگے ڈاکٹر ہیں ۔ مسٹر سندھیا نے بچی کے جاری علاج  پر اطمینان کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ منگل کو مندسور میں سات سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کو قتل کرنےکی کوشش کی گئی تھی۔ جمعہ کو بچی کو شدید تشویشناک حالت میں اندور کے ایم وائی ایچ اسپتال میں علاج کے لئے بھرتی کیا گیاتھا۔

Loading...

Loading...