مدارس ملازمین کا جھارکھنڈ حکومت پر مدرسوں کو ختم کرنے کی سازش کا الزام

مدارس اور اقلیتی اسکولوں کے تئیں جھارکھنڈ حکومت کے قول و فعل میں تضاد پایا جا رہا ہے ۔

Sep 21, 2017 11:28 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 11:28 PM IST

رانچی : مدارس اور اقلیتی اسکولوں کے تئیں جھارکھنڈ حکومت کے قول و فعل میں تضاد پایا جا رہا ہے ۔ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تحت کام کرنے کا دعوی کر رہی ہے جبکہ اقلیتی اداروں کے ملازمین نے مدارس کو ختم کرنے کی سازش کا الزام لگایا ہے۔ واضح رہے کہ مادی جانچ کی وجہ سے ریاست کے تین سو سے زائد اقلیتی اسکولوں کے ملازمین بھی مالی پریشانی کا شکار ہیں ۔ حکومت کے اس رویہ کے خلاف پچھلے منگل کے دن ان ملازمین نے رانچی میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔

ریاست میں 186 منظورشدہ اور 590 غیرمالیاتی منظورشدہ مدرسوں کے ملازمین سخت مالی بحران کے شکار ہیں۔ حکومت کے ایک فرمان کے تحت ان مدرسوں کی مادی جانچ کی جارہی ہے ، جس وجہ سے پچھلے سات ماہ سے ان کی تنخواہ کی ادائیگی پر روک لگی ہے ۔ وہیں ریاستی وزیر تعلیم نیرا یادو کا دعوی ہے کہ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تحت کام کررہی ہے۔

مدارس ملازمین کا جھارکھنڈ حکومت پر مدرسوں کو ختم کرنے کی سازش کا الزام

واضح رہے کہ غیرمالیاتی منظورشدہ مدارس کے ملازمین ایک لمبے عرصہ سے گرانٹ فراہمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔ چند سال قبل ایک لمبے جانچ کے عمل کے بعد 590 مدرسوں میں سے تقریبا 37 مدارس کو ہی گرانٹ فراہمی کی راہ ہموار ہوئی تھی ، لیکن ایک مرتبہ پھر سے ایسے تمام مدارس کی ویڈیوگرافی کے ساتھ جانچ کا حکم دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس رویہ سے مدرسہ ملازمین میں سخت غم و غصہ ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز