یہاں طلاق کے معاملہ میں خواتین نے مردوں کو چھوڑا پیچھے ، مگر 2016 سے اب تک نہیں آیا تین طلاق کا کوئی بھی معاملہ ، خلع کے 630 معاملات

May 20, 2017 01:03 PM IST | Updated on: May 20, 2017 01:11 PM IST

بھوپال ( ڈاکٹر مہتاب عالم ) ریاست بھوپال میں طلاق دینے کے معاملہ میں خواتین نےمردوں کو پیچھےچھوڑ دیا ہے۔ مساجد کمیٹی بھوپال کے مصالحتی مرکز میں درج اعداد وشمار کے مطابق طلاق دینے کے معاملات میں خواتین مردوں سے20 فیصد آگے ہیں ۔ مرد سے زیادہ خواتین خلع کے ذریعہ آزادی کیوں حاصل کرنا چاہتی ہیں ، اس نے مسلم سماج کے دانشوروں اور علمائے دین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ بھوپال مساجد کمیٹی نے اس کے لئے ایک تحریک شروع کی ہے ۔ تحریک کے تحت قاضی شہر ،علما ئے دین اور نکاح خواں اپنے اپنے حلقہ میں اسلامی بیداری مہم کے پروگرام کا منعقد کریںگے ۔ تاکہ طلاق جسے اسلام میں ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے اس کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اسلامی معاشرے میں ازدواجی زندگی کے لئے نکاح کو بہترعمل اور طلاق کو نا پسندیدہ عمل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ، جب اس نا پسندیدہ عمل کے انجام پانے کی خبر سننے کو نہ ملے ۔عام طور پرجب طلاق کی بات سامنے آتی ہے ، تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ مرد اپنی بالا دستی کو قائم کر نے کے لئے نہ صرف عورت پر ظلم کرتا ہے بلکہ معمولی معمولی بات پر بھی طلاق دے دیتا ہے۔

یہاں طلاق کے معاملہ میں خواتین نے مردوں کو چھوڑا پیچھے ، مگر 2016 سے اب تک نہیں آیا تین طلاق کا کوئی بھی معاملہ ، خلع کے 630 معاملات

ریاست بھوپال جو مالوہ کی ایک اہم ریاست رہی ہے۔ یہاں پر شرعی معاملات کے لیے ریاستی عہد سے محکمہ دارالقضا قائم ہے۔ دارالقضا کا ہیڈ کوارٹر بھوپال میں ہے ، جہاں پر شرعی معاملات کے حل کے لئے بھوپال، سیہور اور رائسین تینوں اضلاع کے معاملات درج کیے جاتے ہیں ۔ مساجد کمیٹی کے زیرانتظام اس کا نظم و نسق چلایا جاتا ہے ۔ دارالقضا میں نکاح کے رجسٹریشن کے ساتھ مصالحتی مرکز بھی قائم ہے ۔ تاکہ مرد اور عورت کے بیچ اگر کوئی نا اتفاقی ہوتی ہے ، تو اسے مصالحت کے ذریعہ بہتر بنایا جا سکے۔

مساجد کمیٹی مصالحتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق سال2016 میں خواتین کی جانب سے459 معاملات اور 2017 میں 31 مارچ تک 171 معاملات خلع کے درج کیے گئے ہیں ۔ جبکہ مردوں کی جانب سے مصالحتی مرکز میں 2016 میں 386 اور2017 میں 80 معاملات درج کیے گئے ہیں ۔ خواتین کے ذریعہ خلع کے لئے پیش کئے گئے معاملات کے لئے کمیٹی نے 18 معاملات میں مصالحت کرانے میں کامیابی حاصل کی جبکہ مردوں کے ذریعہ درج کروائے گئے معاملات میں 20 معاملات کوخوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا گیا۔

دلچسپ بات ہے کہ 2016 سے لے کر اب تک مساجد کمیٹی میں تین طلاق کا ایک بھی معاملہ نہیں آیا ہے۔ طلاق کے معاملات مردوں سے زیادہ عورتوں کے ذریعہ کیوں آ رہے ہیں اس سے مساجد کمیٹی کے ذمہ داران بھی حیران ہیں ۔

مسلم معاشرے میں طلاق اورخلع کے بڑھتے معاملات نے علمائے دین کی نیند اڑا دی ہے ۔ ان معاملات کو لے کر سیاسی پارٹیاں جہاں اپنی سیاست چمکا رہی ہیں ، وہیں علماان معاملات کو لے کر سنجیدگی سےعمل کر نے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ ایسے معاملات ، جن کو اسلام میں نا پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے ، وہ مسلم معاشرے میں پیش ہی نہ آئیں ۔

ممتاز عالم دین اور قاضی شہر بھوپال قاضی سید مشتاق علی ندوی کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس لئے پیش آتے ہیں جب مرد اورعورت اپنے حقوق کی تو بات کرتےہیں ، لیکن وہ اپنے فرائض کو سنجیدگی سے ادا نہیں کرتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز