ہندوستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز : اندور سے چھنی دوسرے ون ڈے کی میزبانی ، اب اس شہر میں ہوگا میچ

بی سی سی آئی نے بدھ کو یہاں یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اندور میں 24 اکتوبر کو کھیلے جانے والا دوسرا ون ڈے اسی دن اب وشاکھاپٹنم میں ہوگا۔

Oct 03, 2018 09:42 PM IST | Updated on: Oct 03, 2018 09:42 PM IST

ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اور مدھیہ پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن (ایم پی سی اے) کے مابین ٹکٹوں کی تقسیم کے سلسلے میں پیدا ہونے وا لے تنازعے کے نتیجے میں ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین اندور میں ہونے والا دوسرا ون ڈے وشاکھاپٹنم منتقل کردیا گیاہے۔

بی سی سی آئی نے بدھ کو یہاں یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اندور میں 24 اکتوبر کو کھیلے جانے والا دوسرا ون ڈے اسی دن اب وشاکھاپٹنم میں ہوگا۔ پانچ میچوں کی سیریز کا پہلا ون ڈے 21 اکتوبر کو گوہاٹی میں کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا ون ڈے 27 اکتوبر کو پنے، چوتھا 29 اکتوبر کو ممبئی اور پانچواں یکم نومبر کو تروونت پورم میں کھیلا جائے گا۔

ہندوستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز : اندور سے چھنی دوسرے ون ڈے کی میزبانی ، اب اس شہر میں ہوگا میچ

اندور سے چھنی دوسرے ون ڈے کی میزبانی ، اب اس شہر میں ہوگا میچ

جس بات کا خدشہ تھا آخر میں وہ صحیح ثابت ہو گئی اور اندور سے دوسرے ون ڈے کی میزبانی چھن گئی۔اس میچ کے سلسلے میں بی سی سی آئی اور ایم پی سی اے کے مابین کامپلی مینٹری ٹکٹوں کی تقسیم کاتنازعہ توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ ایم سی اے نے 48 گھنٹے پہلے یہ واضح کر دیا تھا کہ اس کے پاس میچ کی تیاریوں کے لئے کافی وقت نہیں بچا ہے اور اس کے لیے اس میچ کی میزبانی کرنا مشکل ہے۔

اس تنازعہ کی وجہ كامپلی مینٹری ٹکٹ تھے۔ ایم پی سی اے کے سیکرٹری ملند كنمڈيكر نے کہا تھا، "بی سی سی آئی میچ کے کے لئے ہم سے ہاسپٹیلٹي ٹکٹ کا مطالبہ کر رہی ہے، جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے۔ پویلین (هاسپٹیلٹي) گیلری میں صرف سات ہزار سیٹیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اس میں سے صرف 10 فیصد یعنی 700 سیٹیں ہی بلا معاوضہ فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر اس میں سے ہم پانچ فیصد ٹکٹ بی سی سی آئی کو دے دیتے ہیں، تو ہمارے پاس صرف 350 هاسپٹلٹي ٹکٹ بچیں گے۔

كنمڈيكر نے کہا تھا کہ میچ کی تیاری کے لئے کم از کم 45 دنوں کا وقت چاہئے ہوتا ہے، لیکن ایم پی سی اے کے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ لہذا اس میچ کا انعقاد کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بی سی سی آئی کے نئے آئین کے مطابق اسٹیڈیم کی کل صلاحیت کا 90 فیصد ٹکٹ حصہ عوامی فروخت کیلئے ہونا چاہیے جبکہ باقی 10 فیصد كامپليمینٹري ٹکٹ حصہ ریاست یونٹس کے قریب ہونا چاہیے۔ بي سي سي آئی ایم پی سی اے سے جو مطالبہ کر رہا تھا اسے پورا کرنے میں ایم پی سی اے نے معذرت ظاہر کی تھی اور اسی وجہ سےاب اس سے اندور کے ہاتھ سے دوسرا ون ڈے بھی چھن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آسٹریلیا کے اس گیند باز سے پاکستانی بلے باز بابر اعظم ہیں خوفزدہ ! مقابلہ کیلئے اپنا رہے ہیں یہ حکمت عملی

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز