مدھیہ پردیش انتخابات: آرایس ایس کے خفیہ سروے سے شیوراج کی مشکلوں میں اضافہ

Apr 12, 2018 10:47 PM IST | Updated on: Apr 12, 2018 10:47 PM IST

بھوپال: مدھیہ پردیش کے انتخابی سال میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے خفیہ سروے نے شیوراج سنگھ چوہان کو فکرمند کر دیا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق موجودہ ممبران اسمبلی میں سے تقریباً70 فیصد ممبران کے آئندہ انتخابات میں جیت حاصل کرنے پر شک ہے۔ دراصل دارالحکومت بھوپال میں آرایس ایس اور بی جے پی کے درمیان ہوئی کوآرڈی نیشن میٹنگ کے دوران بھی ممبران اسمبلی کی کارکردگی کو لے کر غوروخوض کیاگیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ انتخابات سے قبل ہونے والے ٹکٹوں کی تقسیم میں بہتر کارکردگی کامظاہرہ نہ کرنے والے ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے جا سکتے ہیں۔ چوتھی بار اقتدار میں واپسی کا خواب دیکھ رہی بی جے پی کے لئے ان کے اپنے سروے نے ہی مشکل میں اضافہ کردیا ہے۔ ممبران اسمبلی کی کارکردگی کو لے کر ہوئے بی جے پی-آر ایس ایس کے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پارٹی کے تقریباً 70 فیصد موجودہ ممبران اسمبلی کی پرفامنس ٹھیک نہیں ہے۔ اس صورت میں یہ ممبران اسمبلی انتخابات سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اس سروے کے بعد پارٹی کے ممبران اسمبلی کے اندر خوف کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

سروے میں بی جے پی ممبران اسمبلی کو تین زمروں پر غور کیاگیا۔ ان میں سب سے پہلے کمزور، متوسط اور بہتر زمرے شامل ہیں۔ سروے کے مطابق 70فیصد ممبران کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہے۔ 50سے زیادہ ممبران کے ٹکٹ کاٹے جاسکتے ہیں۔ 56ممبران اسمبلی ایسے ہیں، جنہیں اگر پارٹی ٹکٹ دیتی ہے تو ان کا جیتنا مشکل ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ اگر سروے رپورٹ پر عمل ہوا تو کئی ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے جائیںگے۔ حالانکہ ذرائع کے مطابق پارٹی کی طرف سے ممبران اسمبلی کو کارکردگی بہتر کرنے کا ایک موقع دیاگیا ہے۔ ٹکٹ تقسیم سے قبل ایک اور سروے ہونے کی امید ہے، جس کے بعد ہی پارٹی یہ طے کرے گی کہ کس کوٹکٹ دیاجائے اور کس کا ٹکٹ کاٹاجائے۔

مدھیہ پردیش انتخابات: آرایس ایس کے خفیہ سروے سے شیوراج کی مشکلوں میں اضافہ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز