شیوراج حکومت نے کیا مدرسہ بورڈ کے بجٹ میں اضافہ ، مگر دیگر اقلیتی اداروں کے بجٹ میں کی کٹوتی

Mar 02, 2017 08:03 PM IST | Updated on: Mar 02, 2017 08:03 PM IST

بھوپال(مہتاب عالم ) مدھیہ پردیش حکومت نے سال 18-2017 کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ بجٹ کو لے کر برسر اقتدار پارٹی جہاں خوشی کا اظہار کر رہی ہے ، وہیں اپوزیشن نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے ۔ بجٹ میں مدرسہ بورڈ کے بجٹ میں اضافہ تو کیا گیا ہے ، لیکن دیگر اقلیتی اداروں کے بجٹ کو کم کر دیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے واحد مسلم ممبر اسمبلی اور سابق اقلیتی وزیر عارف عقیل نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے ۔

مدھیہ پردیش حکومت اپنا سال 18-2017 کا بجٹ پیش کر کے کافی پرجوش ہے۔ جیسا کی امید تھی کہ بجٹ میں سبھی طبقات کا خیال رکھا جا ئے گا اور سرکار ایسا بجٹ پیش کرے گی ، جس کے اثرات ریاست میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر بھی نمایاں ہوں گے ۔ وزیر خزانہ جینت ملیا نے 139115 کروڑ کا بجٹ پیش کیا ہے ۔

شیوراج حکومت نے کیا مدرسہ بورڈ کے بجٹ میں اضافہ ، مگر دیگر اقلیتی اداروں کے بجٹ میں کی کٹوتی

بجٹ میں تعلیم ، زراعت اور صنعت کے سیکٹر کو مضبوط کر نے اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کی جہاں کوشش کی گئی ،وہیں مدرسہ بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مدرسہ ماڈرنائزیشن کے تحت 33 کروڑ روپیہ کا بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کی بات کریں تو یہ سچ ہے کہ حکومت مدرسہ بورڈ کے بجٹ کو 30 لاکھ سے بڑھا کر 45 لاکھ روپے کیا ہے اور مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت 30 کروڑ روپیہ الگ سے مختص کئے ہیں ۔ وہیں دیگر اقلیتی اداروں کی بات کریں تو حکومت نے مساجد کمیٹی کے بجٹ کو ایک کروڑ 33 لاکھ سے کم کر کے ایک کروڑ نو لاکھ روپے اور حج کمیٹی کے بجٹ کو48 لاکھ سے کم کر کے 40 لاکھ اور اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے بجٹ کو 87 لاکھ سے کم کر کے صفر کردیا ہے۔ یعنی یہ ادارہ اب بند کردیا جائے گا۔

حکومت اپنے پیش کردہ بجٹ سے خواہ جتنا بھی خوش ہو ، لیکن جس طرح سے اقلیتی اداروں کے بجٹ کو کم کیا گیا ہے ،اس سے اقلیتی طبقہ مایوس ہے اورشیوراج حکومت کے خلاف اس کی ناراضگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز