مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے پاس ترقیاتی کام کے لئے نہیں ہے وقت

Nov 08, 2017 06:44 PM IST | Updated on: Nov 08, 2017 06:44 PM IST

بھوپال۔ مدھیہ پردیش وقف بورڈ اور تنازعہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ جہاں وقف بورڈ کی جنرل باڈی رولس کے خلاف بنی ہے وہیں بورڈ کے چیئرمین وقف بورڈ کے کام کم کرتے ہیں اوران پر لگے مقدموں میں زیادہ گھرے نظر آتے ہیں ۔

 مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی باڈی کی تشکیل کو تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے پر ان تین سالوں میں بورڈ میں جس طرح سے تنازعات بڑھے ہیں ، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ کیونکہ سب سے پہلے بورڈ کی جنرل باڈی کی تشکیل پر ہی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔ تو وہیں،  بورڈ کے کام کاج بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔

مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے پاس ترقیاتی کام کے لئے نہیں ہے وقت

جس طرح سے وقف بورڈ اپنے کاموں کوانجام دے رہا ہے۔ اس میں وقف کے کرایہ دار بھی بورڈ کی تانا شاہی کے شکار ہوئے ہیں ۔ بورڈ اپنے کرایہ داروں سے من مانہ کرایہ وصول کرنے کے لیے نوٹس جاری کر نے لگا ہے، جس سے وقف کرایہ دار بورڈ کے خلاف ہو گئے اور سڑ کوں پراترآئے ہیں ۔ وقف بورڈ  کا یہ حال صرف بھوپال میں ہی نہیں بلکہ پورے صوبے میں ایک جیسا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھوپال کی ایک تنظیم اوقاف کرایہ داران کمیٹی کی طرف سے بورڈ پر کم سے کم 18 سے 80 مقدمے چلائے جا رہے ہیں ۔ مدھیہ پردیش وقف بورڈ نے اپنے ان تین سے زیادہ سالوں میں نا تو وقف املا ک کے تحفظ کے لئے کوئی کا م کیا ہے اور نا ہی ان ضرورت مندوں کے لیے جن کو وقف بورڈ سے خاصی امید تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ا ب لوگ صوبے کے وزیراعلی سے بورڈ کو تحلیل کرنے کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔ ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز