وزیر اعظم کی اپیل رائیگاں ، مبینہ طور پر گوشت لے جانے کےالزم میں جھارکھنڈ میں ایک اور مسلم نوجوان کا قتل

Jun 29, 2017 08:06 PM IST | Updated on: Jun 30, 2017 09:58 AM IST

رانچی : جھارکھنڈ میں بیف کے نام پر ہنگامہ اور تشدد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ وزیر اعظم مودی کے بیان کے چند گھنٹوں کے بعد ہی جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع میں ایک گاڑی میں مبینہ طورپرگوشت لے جانے کے الزام میں ایک مسلم نوجوان کا قتل کردیا گیا اور اس کی گاڑی میں آگ لگادی گئی ۔

نوجوان کی شناخت علیم الدین عرف اصغر انصاری کے طور پر کی گئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ علیم الدین اپنی وین میں کسی جانور کا گوشت لےجارہا تھا ، جس کی خبر ملنے کے بعد لوگوں کے ایک گروپ نے اس کو بجرا تانڈا کے پاس روکا اور اس کی بری طرح سے پٹائی کردی اور اس کی گاڑی کو نذر آتش کردیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور علیم الدین کو اسپتال لے گئے ، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آر کے ملک نے اس واقعہ کو منصوبہ بند قتل قرار دیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ آج ہی وزیر اعظم مودی نے گجرات میں گئو رکشا کے نام قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا تھا ، مگر ان کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی بی جے پی کی ہی حکومت والی ریاست میں دھجیاں اڑا دی گئیں ۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے میں اس طرح کا یہ دوسرا واقعہ جھارکھنڈ میں پیش آیا ہے۔ گزشتہ روز منگل کو گریڈیہہ کے دیهري تھانہ علاقہ کے بیريا هٹياٹانڈ میں ایک شخص کے گھر کے باہر جانور کی لاش ملنے پر مشتعل بھیڑ نے پہلے شخص کی جم کر پٹائی کی اور پھر اس کے بعد اس کے گھر میں آگ لگا دی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز