مجاہد آزادی مولانا آزاد کے رانچی سے گہرے رشتے ، لیکن ان کا خواب ابھی تک نہیں ہوسکا شرمندہ تعبیر

Nov 10, 2017 09:35 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 09:35 PM IST

رانچی : عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کا رانچی سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ انہوں نے اس شہر میں تقریباً چار سال نظر بندی کے دن گذارے ۔ اس درمیان انہوں نے قومی اتحاد کو پائیدار بنانے اور لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فلاح و بہبودی کے لئے مثالی کارنامے انجام دیئے۔ ماہرین کے مطابق مولانا آزاد کی خواہش ان کے قائم مدرسہ اسلامیہ کو انگلوعربک یونیورسٹی بنانے کی تھی ، لیکن اس عمارت کی تعمیر کو تقریبا سو سال پورے ہونے پر بھی مولانا کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے سال 1917 سے 1920 تک رانچی میں قیام کیا ۔ اس درمیان انہوں نے معاشرے کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لئے مدرسہ اسلامیہ اور انجمن اسلامیہ کا قیام کیا۔ ماہرین کے مطابق مولانا آزاد نے مدرسہ اسلامیہ کی تعمیر اپنی زیر نگرانی میں کرائی ۔ یہ عمارت پورے برصغیر میں مولانا آزاد کی واحد یادگار مانی جاتی ہے۔ مولانا آزاد ہندو مسلم اتحاد کے زبردست علمبردار تھے۔ انہوں نے یہاں کے لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ مولانا آزاد شہر کے جامع مسجد میں نماز جمعہ میں خطابت کیا کرتے تھے ۔ ان کی تقریر سننے کیلئے غیرمسلم افراد بھی آیا کرتے تھے ۔

مجاہد آزادی مولانا آزاد کے رانچی سے گہرے رشتے ، لیکن ان کا خواب ابھی تک نہیں ہوسکا شرمندہ تعبیر

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز