ہندوستان کا ہر شخص پہلے ہندو ہے، اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے: بھاگوت

Oct 28, 2017 07:30 PM IST | Updated on: Oct 28, 2017 07:30 PM IST

اندور۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ جس طرح امریکہ میں رہنے والا امریکی، جرمنی میں رہنے والا جرمن کہلاتا ہے اسی طرح ہندوستان میں رہنے والا ہر شخص پہلے ہندو ہے۔ مسٹر بھاگوت نے یہاں جسمانی کسرت کے ایک پروگرام میں کہا کہ پوری دنیا میں آپ کی شناخت آپ کے مادر وطن( ملک) کے نام سے ہوتی ہے ، ہونی بھی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہندستان میں رہنے والا ہر شخص پہلے ہندو ہے پھردوسرے فرقہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پر کسی کو بھی مخالفت، دشمنی یا اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ سندھو ندی کے پار اور ہماچل کے آگے پورا کا پورا زمینی حصہ ہی ہندستان ہے۔ انہوں نے ملک کی ثقافت میں نوجوانوں کے تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہندستانی روایت کو آگے لے جانے میں نوجوانوں کو اپنا کردارادا کرنا ہے۔ مسٹر بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد کبھی بھی مقبول اور بارسوخ بننا نہیں ہے بلکہ سماج کو متحد کرنا ہے۔ انہوں نے ملک میں ترقی کے حالیہ تصور پر جس کا آج کل ڈھنڈوراپیٹا جارہا ہے، بالواسطہ طنز کرتے ہوئے کہا کہ جنگل میں رہنے والے شیر کو چڑیا گھر کے مضبوط پنجرے میں قید کرنا اس کی ترقی نہیں ہے۔

ہندوستان کا ہر شخص پہلے ہندو ہے، اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے: بھاگوت

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت: فائل فوٹو

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ سماج ہی سرکاریں بناتا ہے۔ سماج جتنی ترقی کرے گا ، سرکاریں بھی اتنی ہی ترقی کرسکیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہندستان کو ’وشو گورو‘ بنانے کے لئے ہمیں اپنے رویہ، خیال اور نقطہ نظر میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملک کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یوروپ سے ہمیں اس معاملہ میں سیکھنا چاہئے۔ جس طرح وہاں کسی مقصد کے حصول کے لئے مخالف نظریات رکھنے والے لوگ متحد ہوکر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں بھی متحد ہوکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز