مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کارکردگی پر اٹھائے سوال

Apr 18, 2017 07:08 PM IST | Updated on: Apr 18, 2017 07:09 PM IST

بھوپال۔ تین طلاق پرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کو لیکر طرح طرح سے سوال اٹھ رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جہاں طلاق ثلاثہ کو لیکر اپنےموقف پر قائم ہے وہیں بہت سی مسلم تنظیموں کے ساتھ ایک نئی تنظیم مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک نیا محاذ قائم کردیا ہے۔ بھوپال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خاتون ممبران نے بھی شرکت کی اورانہوں نے کہا کہ اگر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ شرعی معاملات میں قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئیے کہ تین طلاق جیسے معاملے میں نکاح کی طرز پر طلاق کے وقت بھی گواہوں اور قاضی کی موجودگی کو لازمی بنائے۔

مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مد ھیہ پردیش  مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو قومی اورسماجی خدمت کے لئے بورڈ کو آرایس ایس سے سبق لینے کا مشورہ دیا ہے۔ پریس کانفرنس میں مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ کے معاملے کو لیکر سپریم کورٹ میں پارٹی بننے کے فیصلے کا اعلان کیا تاکہ خواتین کو ان کا شرعی حق دلایا جا سکے۔ بھوپال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مد ھیہ پردیش مسلم پرسنل لاءبورڈ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کارکردگی کو نہ صرف نشانہ بنایا بلکہ یہ بھی کہا کہ بورڈ میں سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی شمولیت سے نہ صرف بورڈ کا وقاراورکارکردگی مجروح ہو رہی ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اس کا سیاسی طور پراستعمال بھی کرنے لگے ہیں ۔ مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدرشمس الحسن کا کہنا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں قائم ہوا لیکن وہ ہندستان کے چند شہروں تک ہی محدود ہے جبکہ آرایس ایس نے اپنے لوگوں کی خدمت کے نام پر پورے ملک میں اپنی تنظیم کا جال بچھا دیا  ہے۔ شمس الحسن نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو آر ایس ایس سے سبق لینے کا مشورہ بھی دیا ۔

مدھیہ پردیش مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کارکردگی پر اٹھائے سوال

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز