ریاستی وقف بورڈ کے خلاف مدھیہ پردیش جمیعۃ علما نے کھولا مورچہ

Mar 04, 2017 08:11 PM IST | Updated on: Mar 04, 2017 08:11 PM IST

بھوپال۔ مد ھیہ پردیش وقف بورڈ چیئرمین کی ناقص کارکردگی اور بورڈ کی بدعنوانیوں کے خلاف مدھیہ پردیش جمیعۃ علما نے مورچہ کھول دیا ہے۔ جمیعۃ علما نے حکومت سے بورڈ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔  مدھیہ پردیش وقف بورڈ اپنی ناقص کارکردگی کو لیکر ہمیشہ مسلم تنظیموں کے نشانے پر رہتا ہے ۔ بورڈ کا قیام 1961 میں ہوا تھا ۔ اس وقت سے لیکراب تک جتنی بھی صوبائی حکومتیں آئیں وہ سبھی بورڈ وقف املاک کا تحفظ کرنے میں نا کام رہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ کی زمینوں پر ناجائز قبضے بڑھتے گئے اور اب بورڈ کی ستر فیصد زمینوں پر زمین مافیاؤں کا نا جائز قبضہ ہو چکا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ زمین مافیاؤں اور سیاسی اثر رکھنے والوں نے قبرستان تک نہیں چھوڑے ہیں۔ 1962 کی گزٹ رپورٹ کے مطابق بھوپال میں 87 وقفیہ قبرستان تھے، اب ان کی تعداد گھٹ کر محض 23 تک سمٹ گئی ہے۔  بورڈ کی اس ناقص کارکردگی کو دیکھتے ہوئے جہاں مدھیہ پردیش جمیعۃ علما نے صوبائی سطح پر تحریک شروع کر دی ہے وہیں اس نے صوبائی حکومت سے بورڈ کو تحلیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جمیعۃ علما نے بورڈ چیئرمین پر اقربا پروری کو بھی فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔

ریاستی وقف بورڈ کے خلاف مدھیہ پردیش جمیعۃ علما نے کھولا مورچہ

بورڈ کی ناقص کارکردگی اور جمعیۃ علما کےالزامات کو لیکر جب ای ٹی وی نے بورڈ کے چیئرمین سے بات کی تو بورڈ چیئرمین نے جمیعۃ علما کے الزمات کی تو تردید کی لیکن یہ  تسلیم کیا کہ  بورڈ کی بیشتر زمینوں پر ناجائزقبضے ہیں اوربورڈ کو اپنی ہی زمینوں کے لیے چار ہزار مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

shaukat muhammad khan

شوکت محمد خان کو ایم پی وقف بورڈ کا چیئرمین بنے ہوئے تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ ان تین سالوں میں بورڈ چیئرمین نے دعوے تو بہت کیے  لیکن ابھی تک بھوپال کی ایک بھی زمین سے ناجائز قبضہ کو ہٹانے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں ۔ یہی نہیں بورڈ سروے کمشنر کا تقرر کرانے میں بھی وہ ناکام رہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز