جھارکھنڈ میں مسلم اقلیت سرکاری فلاحی منصوبوں کے فوائد سے محروم

Oct 24, 2017 08:20 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 08:20 PM IST

رانچی۔ جھارکھنڈ میں مسلم اقلیت سرکاری فلاحی منصوبوں کے فائدے سے محروم ہے ۔ جس کی بنا پر مسلم اقلیت تمام شعبہ حیات میں پسماندگی کی شکار ہے۔ منصوبوں کے نفاذ کے تئیں حکومت کے رویہ سے مسلم اقلیت میں سخت مایوسی ہے۔ اس لئے مختلف سماجی تنظیموں نےمختلف منصوبوں کے تحت فائدہ فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔

سرکاری اعداد و شمارکے مطابق ریاست جھارکھنڈ میں 15 فیصدی مسلم اقلیتی آبادی ہے ۔ یہ آبادی تمام شعبہ حیات میں پسماندگی کی شکار ہے ۔ مسلم اقلیت کا الزام ہے کہ انہیں حکومت کے ذریعہ چلائے جا رہے فلاحی منصوبوں کے تحت فائدہ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے، نتیجتا، وہ کسی طرح محنت و مشقت کرکے اپنے خاندان کی کفالت کا انتظام کرپاتے ہیں ۔

جھارکھنڈ میں مسلم اقلیت سرکاری فلاحی منصوبوں کے فوائد سے محروم

ماہرین کا ماننا ہے کہ سال 2000 میں ریاست کی تشکیل کے بعد مسلم اقلیت کے گنے چنے افراد نے ذاتی کوششوں سے تعلیمی اوراقتصادی طور پر ترقی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ انکے مطابق شہروں میں روزگار کے چند وسائل کی وجہ سے مسلم اقلیت کا بڑا حصہ دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں آباد مسلم اقلیت کی حالت بیحد ابتر ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ریاستی اقلیتی مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن کے ذریعہ بھی لون کی رقم فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ مسلم اقلیت کا دعویٰ ہے کہ تیز رفتار ترقی کی امید میں ریاست کی تشکیل کے لئے ہونے والی تحریک میں انہوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا لیکن ریاست کی تشکیل کے تقریبآ 18 سالوں بعد بھی انکی یہ امید پوری نہیں ہو پائی ہے ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز