سوریہ نمسکار کو جبرا تھوپنے کو مسلم تنظیموں نے بتایا آئین کی خلاف ورزی

مدھیہ پردیش حکومت کے زیراہتمام صوبہ کے تمام اضلاع میں سوریہ نمسکا ر کا انعقاد تو کیا گیا لیکن مسلم تنظیمیں حکومت اور محکمہ تعلیم کے رویہ سے سخت ناراض ہیں۔

Jan 13, 2018 06:41 PM IST | Updated on: Jan 13, 2018 06:41 PM IST

بھوپال۔ ملک میں مودی حکومت آنے کے بعد سے ہی بی جے پی کے اقتداروالی ریاستوں میں وندے ماترم گانے سے لیکر یوگا میں سوریہ نمسکار وغیرہ کو لیکر مسلمانوں پر ہمیشہ زبردستی ایک دباؤ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اگر کوئی انکار کرتا ہے تو اس کو ملک مخالف کہنے تک سے زعفرانی تنظیمیں گریز نہیں کرتی ہیں وہیں طلبا کو اسکولوں سے نکالنے تک کی دھمکی دے  کر انہیں ایسے پروگراموں میں جبراً شامل کرایا جاتا ہے ۔ ایسا ہی معاملہ مدھیہ پردیش میں پیش آیا ہے جہاں اقلیتی اداروں میں سوریہ نمکسکار کے لیے زبردستی کی گئی۔

مدھیہ پردیش حکومت کے زیراہتمام صوبہ کے تمام اضلاع میں سوریہ نمسکا ر کا انعقاد تو کیا گیا لیکن مسلم تنظیمیں حکومت اور محکمہ تعلیم کے رویہ سے سخت ناراض ہیں۔ مسلم تنظیموں کا الزام ہےکہ عدالت کےاحکام کے باوجود محکمہ تعلیم نےاقلیتی اسکولوں اورطلبا کو سوریہ نمسکار کے پروگرام میں شرکت کے لئے بیجا پریشان کی ۔

سوریہ نمسکار کو جبرا تھوپنے کو مسلم تنظیموں نے بتایا آئین کی خلاف ورزی

کوآرڈینیشن کمیٹی فار انڈین مسلمس کی ایم پی یونٹ نے اس سلسلے میں انفارمیشن کو جمع کرنا شروع کیا ہے تاکہ ایسے افسران کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکے۔ کوآرڈینیشن کمیٹی فار انڈین مسلمس کا یہ بھی الزام ہے کہ سیکولر جمہوری ملک میں بی جے پی حکومت نے سوریہ نمسکار کا انعقاد کرکے آئین کی خلاف روزی کی ہے۔

Loading...


 

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز