مدھیہ پردیش : بھوپال شاہی اوقاف کی ناقص کارکردگی کے سبب مٹتے جارہے ہیں قدیم نقوش

بھوپال کو نوابوں کی نگری اور جھیلوں و تالابوں کے شہر کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کاحسن شامل ہے وہیں اسے مساجد کا شہر بھی کہا جاتا ہے

Apr 05, 2018 11:38 PM IST | Updated on: Apr 05, 2018 11:38 PM IST

بھوپال : بھوپال کو نوابوں کی نگری اور جھیلوں و تالابوں کے شہر کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کاحسن شامل ہے وہیں اسے مساجد کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔اس شہر پر نو مرد اور چار بیگمات نے حکومت کی ہے ، لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اب اس نوابوں کی نگری میں نوابوں کی باقیات اور ان کے مزارتک خستہ حالی کا شکار ہیں۔

شاہی اوقاف اپنی کارکردگی کو لے کر بھلے ہی بڑے بڑے دعوے کرے ، لیکن بھوپال کی مسلم تنظیمیں شاہی اوقاف کی کار کردگی سے سخت ناراض ہیں۔ مسلم تنظیموں کی کہنا ہے کہ شاہی اوقاف کی عدم توجہی کی وجہ سے نہ صرف بھوپال کے قدیم نقوش مٹتے جا رہے ہیں بلکہ شاہی اوقاف کی بیش قیمتی زمینوں پر بھی نا جائز قبضے بڑھتے جا رہے ہیں ۔

مدھیہ پردیش : بھوپال شاہی اوقاف کی ناقص کارکردگی کے سبب مٹتے جارہے ہیں قدیم نقوش

بھوپال کی مسلم تنظیمیں اس کے لئے شاہی اوقاف کی عدم توجہی کو ذمہ دار مانتی ہیں۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ شاہی اوقاف جس کی ذمہ دار نواب منصور علی خان پٹودی کی بڑی صاحبزادی صبا سلطان ہیں وہ تو خود یہاں آتی نہیں ہیں اور جن لوگوں کو ذمہ داری دی گئی ہے ان کی توجہ اس جانب نہیں ہے کہ شاہی اوقاف کا تحفظ ہو سکے۔ مسلم تنظیموں کی یہ بھی شکایت ہے کہ نواب پٹودی نے اپنی حیات میں جن پروگراموں کا اعلان کیا تھا ، شاہی اوقاف کے ذمہ داران نے اس پر بھی خاک ڈال دی ہے۔

وہیں جب اس معاملہ میں نیوز 18 اردو نے شاہی اوقاف کے بھوپال میں ذمہ اعظم ترمذی سے بات کی تو انہوں نے بھی فنڈ کی کمی کا رونا رویا۔ شاہی اوقاف کا دعوی ہے کہ نوابین کے مقبروں کے ساتھ شاہی اوقاف کی بیش قیمتی زمینوں کے تحفظ کے لئے اس کی کوششیں جاری ہیں ۔ شاہی اوقاف یہ مانتا ہے کہ اس کی بیش قیمتی زمینوں پر نا جائز قبضے بڑھے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز