جھارکھنڈ کے معروف تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کی تعداد افسوسناک

رانچی۔ جھارکھنڈ میں مسلم اقلیت پسماندگی کی شکار ہے ۔ تعلیمی ترقی کے تعلق سے بیداری مہم چلانے کے باوجود آئی آئی ایم ، آئی ایس ایم، ایکس ایل آر آئی جیسے ریاست کے معروف تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کی تعداد بیحد قلیل ہے ۔

Nov 07, 2017 07:31 PM IST | Updated on: Nov 07, 2017 07:31 PM IST

 رانچی۔ جھارکھنڈ میں مسلم اقلیت پسماندگی کی شکار ہے ۔ تعلیمی ترقی کے تعلق سے بیداری مہم چلانے کے باوجود آئی آئی ایم ، آئی ایس ایم، ایکس ایل آر آئی جیسے ریاست کے معروف تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کی تعداد بیحد قلیل ہے ۔

ریاست میں مسلم اقلیت کی آبادی تقریبآ 15 فیصدی ہے ۔ تعلیمی لحاظ سے یہ آبادی پسماندگی کی شکار ہے ۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر شاہد اختر نے واضح کیا کہ نجی سروے میں  ریاست کے معروف تعلیمی ادارے جیسے رانچی کے آئی آئی ایم ۔ دھنباد کے آئی ایس ایم اور جمشید پور کے ایکس ایل آر آئی میں مسلم طلبا کی تعداد بیحد افسوس ناک ہے۔

جھارکھنڈ کے معروف تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کی تعداد افسوسناک

واضح رہے کہ معاشرے کی تعلیمی ترقی کے مقصد سے حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیموں کے ذریعہ مسلسل قدم اٹھائے جارہے ہیں ۔ اس مہم کے مثبت نتائج ضرور برآمد ہوئے ہیں لیکن اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے کی دوڑ میں مسلم طلبا کی بڑی تعداد پیچھے رہ جاتی ہے ۔ سماجی کارکنان و دانشوران اقتصادی پسماندگی کو  تعلیمی پسماندگی کی بڑی وجہ مانتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ریاست کے دیہی علاقوں میں مسلم اقلیت کی بڑی آبادی ہے ۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے شہروں کے مقابلے یہ آبادی اقتصادی اور تعلیمی دونوں اعتبار سے پسماندہ ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز