کمپیوٹر کی مفت تعلیم کے لئے بھی آگے نہیں آ رہے مسلم طلبہ و طالبات

بھوپال۔ ایک جانب مسلمان اپنی پسماندگی کا مستقل رونا روتے ہیں تو دوسری جانب اگر کوئی تنظیم یا سرکار ان کی ترقی کے لئے کوئی اسکیم یا منصوبہ بناتی ہے تو اس میں وہ دلچسپی نہیں دکھاتے ہیں۔

May 03, 2017 10:38 AM IST | Updated on: May 03, 2017 10:41 AM IST

بھوپال۔ ایک جانب مسلمان اپنی پسماندگی کا مستقل رونا روتے ہیں تو دوسری جانب اگر کوئی تنظیم یا سرکار ان کی ترقی کے لئے کوئی اسکیم یا منصوبہ بناتی ہے تو اس میں وہ دلچسپی نہیں دکھاتے ہیں۔ ایسا ہی حال منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ شروع کی گئی مفت کمپیوٹرتعلیم کا ہے،جس کو طلبا کا شدت سے انتظار ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے تین ماہ پہلے مفت کمپیوٹر تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اسے امید تھی کہ ہر بیچ میں اسے پچاس سے زیادہ بچے ملیں گے لیکن امیدیں پوری نہیں ہو سکیں۔

پہلے بیچ کی تعلیم مکمل ہو چکی ہے اور اس میں صرف چالیس طلبا نے ہی داخلہ لیا تھا اور اب دوسرا بیچ شروع ہونے جا رہا ہے ۔ ادارے کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ طلبا کمپیوٹرسینٹر میں داخلہ لیں تاکہ ان کی ذہنی تربیت کی جا سکے۔ مفت کمپیوٹر تعلیم میں مسلم سوسائٹی کی عدم توجہی سے منتظمین میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔

کمپیوٹر کی مفت تعلیم کے لئے بھی آگے نہیں آ رہے مسلم طلبہ و طالبات

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز