مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کا مندر بننے کے 32 گھنٹوں بعد حرکت میں آئی انتظامیہ ، ہندو مہا سبھا کو نوٹس

مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ہندو مہا سبھا کے دفتر میں مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا مجسمہ نصب کرکے اس جگہ کو مندر اعلان کئے جانے کے 32 گھنٹوں بعد انتظامیہ اب حرکت میں آئی ہے

Nov 17, 2017 03:17 PM IST | Updated on: Nov 17, 2017 03:17 PM IST

گوالیار : مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ہندو مہا سبھا کے دفتر میں مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا مجسمہ نصب کرکے اس جگہ کو مندر اعلان کئے جانے کے 32 گھنٹوں بعد انتظامیہ اب حرکت میں آئی ہے۔ انتظامیہ نے مہا سبھا کے لیڈر جے ویر بھاردواج کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔

اے ڈی ایم شیوراج سنگھ ورما نے بتایا کہ بھاردواج کو نوٹس جاری کرکے کہا گیا ہے کہ پولیس کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ دولت گنج میں ہندو مہا سبھا بھون کے ایک کمرے میں ناتھو رام گوڈسے کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے اور اس جگہ کو گوڈسے کا مندر اعلان کیا گیا ہے ، اس مندر کی تعمیر پوری طرح سے غیر قانونی ہے کیونکہ اس کیلئے کسی سے اجازت نہیں لی گئی ہے۔

مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کا مندر بننے کے 32 گھنٹوں بعد حرکت میں آئی انتظامیہ ، ہندو مہا سبھا کو نوٹس

بھاردواج کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اجازت کے بغیر مندر کی تعمیر مدھیہ پردیش عوامی مقامات ایکٹ 2001 کے تحت غیر قانونی ہے۔ نوٹس میں بھاردواج سے پانچ دنوں میں جواب داخل کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر یہ مانا جائے گا کہ ان پر جو الزامات ہیں ، وہ انہیں تسلیم کرتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز