امداد یافتہ مدرسہ کے اساتذہ پچھلے ایک سال سے تنخواہ اور غریب طلبہ مڈ ڈے میل سے محروم

Mar 04, 2017 04:46 PM IST | Updated on: Mar 04, 2017 04:46 PM IST

رانچی۔ رانچی کے پتھل کدوا نامی علاقہ میں واقع سرکاری امداد یافتہ منظورشدہ مدرسہ مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ اس مدرسہ کے اساتذہ پچھلے ایک سال سے تنخواہ سے محروم ہیں۔ اتنا ہی نہیں،  مدرسہ کے سینکڑوں غریب طلبا و طالبات کو دوپہر کے کھانے سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ رانچی کے قلب میں واقع  پتھل کدوا کے مدرسہ نورالاسلام میں سینکڑوں کی تعداد میں سلم علاقہ کے غریب طلبا و طالبات تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مدرسہ کے بچے پچھلے چار ماہ سے دوپہر کے کھانے سے محروم ہیں، وہیں مدرسہ میں فائز کل چھ اساتذہ کو پچھلے ایک سال سے تنخواہ فراہم نہیں کی گئی ہے۔ حکومت و افسران کے اس رویہ سے مدرسہ کے اساتذہ کرام  شدید مالی پریشانی سے دوچار ہیں۔

واضح رہے کہ اس مدرسہ کا قیام سن 1982 میں امارت شرعیہ کے مولانا شعیب رحمانی کے ہاتھوں کیا گیا تھا۔ ریاست کی تشکیل کے بعد سن2013 میں سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ امداد یافتہ مدرسہ کی حیثیت سے اسے منظوری حاصل ہوئی تاہم مقامی وارڈ کاونسلر ناظیمہ رضا نے مڈ ڈے میل دوبارہ شروع کرنے کے ضمن میں ڈی ایس ای شیوندر کمار کو عرضداشت پیش کی ہے ۔ اس مدرسہ کو سن 1987 میں بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق کیا گیا تھا تب سے اس مدرسہ کے طلبا وطالبات وسطانیہ امتحانات میں شامل ہوتے رہے ہیں۔

امداد یافتہ مدرسہ کے اساتذہ پچھلے ایک سال سے تنخواہ اور غریب طلبہ مڈ ڈے میل سے محروم

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز