ادیب و شاعرمولانا سید حمید الدین اخترگلاوٹھی کی حیات و خدمات پرعالمی سیمینار کا انعقاد

Dec 23, 2017 08:23 PM IST | Updated on: Dec 23, 2017 08:23 PM IST

 بھوپال۔ ادبی تنظیم تہذیب اور بھوپال لٹریری سوسائٹی کے مشترکہ بینرتلے بھوپال میں عالمی سیمینارکا انعقاد کیا گیا۔ عالمی سمینار میں ہندستان کےعلاوہ قطراورکویت کےاردوادیبوں نے شرکت کی اورممتازمجاہد آزادی مولانا سید حمید الدین اخترکی حیات وخدمات پراپنےخیالات کا اظہار کیا اور انہیں اردو شاعری کا اختر تابندہ قراردیا۔ مولانا سید حمیدالدین اخترکا شمار ہندستان کےممتازمجاہدین آزادی میں ہوتا ہے۔ مولانا سید حمیدالدین کی ولادت اترپردیش کے تاریخی قصبہ گلاوٹھی میں 1890 میں ہوئی اور وفات 14 فروری 1974کو ہوئی ۔ مولانا سید حمید الدین اختر کی ابتدائی تعلیم گلاوٹھی کےمدرسہ منبع العلوم میں ہوئی۔

بعد ازاں جب مدرسہ کے ممتاز عالم دین مولانا محمد حسن مرادآبادی بھوپال کے قاضی کے عہدے پر فائز ہوئے تو مولانا سید حمیدالدین اختر بھی انہیں کے ساتھ بھوپال آئےاور بھوپال میں رہ کر مزید تعلیم حاصل کی۔ تحصیل علم سے فراغت کے بعد انہوں نے گلاوٹھی اور سورت کے راندیر میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے تحریک آزادی میں اپنی قربانیاں پیش کیں ۔آپ تحریک آزادی میں شامل ہوئے۔ جمیعۃ علمائے ہند  اور انڈین نیشنل کانگریس کے اہم رکن رہتے ہوئے ملک کی آزادی کے لئے مولانا حمید الدین اختر نےجوخدمات انجام دی ہیں وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے ۔ ملک کی آزادی کے لئے انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی تحریروں سے اردو ادب کے ذخیرے میں اضافہ کیا۔

ادیب و شاعرمولانا سید حمید الدین اخترگلاوٹھی کی حیات و خدمات پرعالمی سیمینار کا انعقاد

مولانا سید حمید الدین اختر ممتاز مجاہد آزادی کے ساتھ مفکر، مدبر، مصلح قوم، شاعر، انشا پرداز اورصحافی بھی تھے۔ آپ کی حیات میں بہت سا ادبی سرمایہ اشاعت کے مرحلے سے تو گزرا تھا لیکن گردش زمانہ کے ساتھ تلف ہو گیا۔ اب ایک لمبےعرصے کے بعد مولانا سید حمید الدین اختر کے پوتے ندیم ماہر نے اسے حیات اخترگلاوٹھوی کے نام سے مرتب کیا ہے۔ سمینار میں شامل ادیبوں نے مولانا سید حمید الدین اختر کو رشک صد افلاک شخصیت قرار دیتے ہوئے مولانا پرمزید تحقیق کرنے کی بات کہی ۔ مقالہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مولانا نے نثرونظم دونوں میدان میں بہت کچھ لکھا لیکن ہمارے مورخین نے انہیں فراموش کرنے کا کام کیا ہے۔ اس کتاب سے ادبی خلا کو پرکرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز