کیف بھوپالی کی برسی پرمنعقدہ سیمینار میں ان کی حیات و خدمات پر ڈالی گئی روشنی

Jul 26, 2017 07:58 PM IST | Updated on: Jul 26, 2017 07:58 PM IST

بھوپال۔ ممتاز شاعر وفلم گیت کارکیف بھوپالی کی برسی کے موقع پربھوپال میں سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سمینار میں مدھیہ پردیش کے دانشوروں نے شرکت کی اور کیف بھوپالی کی حیات و ادبی خدمات کے ساتھ قران پاک کے ان کے منظوم ترجمہ مفہوم القران پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔  خواجہ محمد ادریس کیف بھوپال کی پیدائش 20 فروری 1917 کو بھوپال میں اور انتقال بھی اسی شہرغزل بھوپال میں 25  جولائی 1991 کو ہوا۔ کیف بھوپالی کا سلسلہ نسب ممتاز صوفی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے پیر ومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی سے ملتا ہے۔ کیف کے خاندان کے بزرگ افغانستان کے ہرات سے پہلے کشمیر اس کے بعد لکھنؤ پھرعہد شاہجہانی میں بھوپال آئے اور یہیں کا حصہ ہوکررہ گئے۔ کیف کو شاعری کا فن وراثت میں ملا ہے۔ کیف کی والدہ صالحہ خانم عاجزؔ بھی ایک اچھی شاعرہ تھیں اورسراج میرخاں سحر سے شرف تلمذ تہہ کی تھیں۔

کیف کی تعلیم و ذہنی تربیت بھوپال میں ہوئی ۔ کیف نے جس وقت شاعری کے میدان میں قدم رکھا اس وقت بھوپال میں مقتدر شعرا کی ایک کہکشاں موجود تھی لیکن کیف نے اپنے منفرد لب ولہجہ سے اردو شاعری میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی اور شاعرفطرت کہلائے۔ کیف کی برسی کے موقع پر بھوپال میں بزم کیف سو سائٹی کے زیر منعقدہ سمینار میں دانشور وں نے انکی شخصیت کے منفرد پہلو پر اپنے خیالا ت کا اظہار کیا۔

کیف بھوپالی کی برسی پرمنعقدہ سیمینار میں ان کی حیات و خدمات پر ڈالی گئی روشنی

کیف بھوپالی نے میر کا مقلد ہونے کا دعوی کیا ہے لیکن ان کا لہجہ نشاطی رنگ وآہنگ لئے ہوئے تھا ۔ انہوں نے غزلوں اورنظموں کے ساتھ فلموں میں بھی بہترین نغمے لکھے۔ پاکیزہ، دائرہ، رضیہ سلطان جیسی فلموں میں لکھے ان کے گیت تو بہت مشہور ہوئے ہی لیکن انہوں نے قران پاک کا منظوم ترجمہ مفہوم القران کے نام سے جو کیا اس نے ان کی قدر و منزلت میں اور اضافہ کردیا ۔ بھوپال میں منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے کیف کے افکار کے ساتھ ان کی زندگی کے ان انچھوئے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی جسے نئی نسل نہیں جانتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز