ممتاز شاعر ندا فاضلی کو مقالہ نگاروں نے اردو شاعری کا نباض قرار دیا

Oct 13, 2017 07:59 PM IST | Updated on: Oct 13, 2017 07:59 PM IST

بھوپال۔ ممتاز شاعر و فلم نغمہ نگار ندا فاضلی کے یوم ولادت کے موقع پربھوپال میں ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سمینارمیں مقررین نے ندا فاضلی کی فکر و فن پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ندا کو اردو شاعری کا نباض قرار دیا۔ ندا فاضلی کا شماراردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ ندا فاضلی نے 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں آنکھ کھولی اورآٹھ فروری 2016 کو ممبئی میں اپنی زندگی کا آخر ی سفر طے کیا۔ ندا فاضلی کی ولادت دہلی میں ضرور ہوئی لیکن ان کی تعلیم و تربیت مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر گوالیار میں ہوئی ۔ ندا کو شاعری کا فن وراثت میں ملا تھا۔ ندا فاضلی کے والد دعا ڈبائیوی کا شمار اپنے عہد کے نمائندہ شعرا میں ہوتا تھا۔ ندا کے اوپر مشکلوں کا پہاڑ اس وقت ٹوٹا جب ندا کے گھر والوں نے ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ندا کے گھر والوں نے ہجرت کی لیکن ندا کی وطن کی محبت اپنے ذاتی رشتوں پرغالب آئی اورانہوں نے ہندستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ گھر والوں کے ہجرت کرنے کے بعد ندا نے گوالیار کو ترک کر دیا اور ممبئ میں سکونت اختیار کر لی۔ ممبئی میں ندا نے اپنے فن اور شاعری کے منفرد اسلوب سے اپنا ایک جہاں بنایا۔

 ندا فاضلی کے یوم ولادت کے موقع پر بھوپال کے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ سمینار میں مقالہ نگاروں نے ندا فاضلی کی نظموں اور نثری تخلیقات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ندا فاضلی کی فلمی گیتوں پر بھی روشنی ڈالی۔ ندا فاضلی ان شعرا میں سے تھے جنہوں نے فلمی گیتوں میں بھی اردو شاعری کی تہذیبی روایت کے دامن کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ندا کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے بات کہنے کے لئے مفہوم کو گنجلک نہیں بنایا  بلکہ آسان اور عام فہم زبان میں بات کہی ہے ۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی عناصر جس خوبی کے ساتھ در آئے ہیں وہ ان کے معاصرین میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ممتاز شاعر ندا فاضلی کو مقالہ نگاروں نے اردو شاعری کا نباض قرار دیا

ندا فاضلی نے بطور صحافی دھرم یگ اور بلٹز میں جو کام کیا ہے وہ بھی کافی اہم ہے۔ ندا فاضلی نے آہستہ آہستہ، رضیہ سلطان، اس رات کی صبح نہیں، سرفروش ، آپ تو ایسے نہ تھے جیسی اہم فلم میں جہاں نغمے لکھے وہیں انہوں نے نیم کا پیڑ، سیلاب، جیوتی جیسے کامیاب سیریل کے لئے بھی نغمے لکھے۔ بھوپال کے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ سمینار میں مقالہ نگاروں نے ندا کے فن و شخصیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ندا کی مدھیہ پردیش سے وابستگی پر بھی روشنی ڈالی۔ ندا فاضلی کو ان کی ادبی خدمات کے سلسلے میں حکومت ہند نے پدم شری جیسے با وقار اعزاز سے بھی سرفراز کیا وہیں مدھیہ پردیش حکومت نے اپنے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ شکھر سمان سے بھی ندا  کو 2004 میں سرفراز کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز