جھارکھنڈ کے اسکولوں میں تین ہزار سے زائد اساتذہ کی ہوگی تقرری ، لیکن اردو کی ایک بھی سیٹ نہیں

Aug 04, 2017 08:29 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 08:29 PM IST

رانچی (نوشاد عالم) جھارکھنڈ کے بارہویں جماعت کے اسکولوں میں تین ہزار سے زائد اساتذہ کی تقرری کا عمل شروع ہوگیا ہے ، لیکن ان میں ایک بھی سیٹ اردو ٹیچر کے لئے مختص نہیں کی گئی ہے ۔ حکومت کے اس رویہ سے اردوامیدوار سخت ناراض ہیں اور اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ۔ جبکہ خود کو اردو کا شیدائی اور خدمتگار کہے جانے والے دانشوران اس مسئلہ کولے کر کچھ بھی کہتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں ۔

ریاست کے ہائی اسکولوں سے پلس ٹو اسکولوں میں اپ گریڈ کئے گئے دو سو اسی ( 280 ) اسکولوں میں 3080 گریجویٹ ٹرینڈ اساتذہ کی تقرری کی جانی ہے۔ ہندی اور انگریزی سمیت کل گیارہ مضامین میں280 ۔ 280 اساتذہ کی تقرری کی جائے گی، لیکن ان میں اردو اساتذہ کی بحالی کا ذکر تک نہیں ہے۔ اس خبر سے پریشان حال اردو امیدوار محکمہ کا چکر لگا رہے ہیں۔

جھارکھنڈ کے اسکولوں میں تین ہزار سے زائد اساتذہ کی ہوگی تقرری ، لیکن اردو کی ایک بھی سیٹ نہیں

واضح رہے کہ محکمہ اسکولی تعلیم و لیٹریسی کی شفارس پرعاملہ ، انتظامی اصلاحات و راج بھاشہ محکمہ نے تقرری کے تعلق سے ریاستی اسٹاف سلیکشن کمیشن کو حکم نامہ جاری کیا ہے۔ جلد ہی کمیشن کے ذریعہ ان عہدوں پر بحالی کیلئے اشتہار ات نکالے جائیں گے۔

اردو داں حلقوں کا الزام ہے کہ ریاستی حکوم اردو زبان کی ترقی کے تئیں کبھی سنجیدہ رویہ نہیں اپنائی ہے، جس وجہ کر ریاست کے پرائمری سے لے کر پی جی لیول تک کے اداروں میں اردو اساتذہ کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جانب اردو کی فلاح بہبود کے نام پر چندہ کرنے والی اور سرکاری امداد حاصل کرنے والی ایک بھی تنظیم اس معاملہ میں آگے نہیں آئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز