کون ہیں عبدالقوی دسنوی؟ جنہیں یاد کر رہا ہے گوگل

Nov 01, 2017 01:13 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 01:14 PM IST

جاوید اختر، مظفر حنفی اور اقبال مسعود جیسے شاعر اور قلمکار جس کے شاگرد رہے ہیں ان کے بارے میں دو لفظ بھی لکھنا اور کہنا اپنے آپ میں ایک مشکل کام ہے۔ نیوز 18 اردو ڈاٹ کام نے کوشش کی ہے مشہور اردو مصنف اور نقاد عبدالقوی دسنوی کے بارے میں بتانے کی۔ وہ مصنف جن کے بارے میں بہار کے لوگ آج بھی ان کی وفات کے بعد کہتے ہیں کہ عبدالقوی دسنوی کو بھوپال والوں نے ہم سے چھین لیا۔

یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ بہار کے لوگ ایسا اس لئے کہتے ہیں کہ بہار کے بعد کچھ عرصہ ممبئی میں گزارنے والے دسنوی کی پوری زندگی بھوپال میں گزری۔ یہاں سیفیہ کالج میں پروفیسر کے طور پر اردو کی خدمت انہوں نے جاری رکھی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ بہار والوں کا ملال کرنا کوئی غلط بھی نہیں ہے۔ دسنوی کی پیدائش انیس سو تیس میں بہار کے دسنا میں ہوئی تھی۔ اسی کے مدنظر عبدالقوی کے نام کے ساتھ دسنوی جڑ گیا۔

کون ہیں عبدالقوی دسنوی؟ جنہیں یاد کر رہا ہے گوگل

تصویر: عبدالقوی دسنوی کے بلاگ سے

ممبئی کے سینٹ زیوئر کالج میں شعبہ عربی، فارسی اور اردو کے صدر تھے  والد سعید رضا

دسنوی کے والد ڈاکٹر سعید رضا ممبئی کے سینٹ زیوئر کالج کے شعبہ عربی، فارسی اور اردو کے صدر تھے۔ اس وجہ سے دسنوی کی پڑھائی ممبئی میں ہوئی  اور ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بھی ممبئی میں گزرا۔ ان کی تعلیم بھی سینٹ زیوئرس کالج سے ہوئی۔ اردو سے وابستگی بھی گلیمر کی دنیا والے اسی شہر میں رہنے کے دوران ہوئی۔

گلیمرس سٹی ممبئی سے آ گئے ادبی شہر بھوپال

عبدالقوی دسنوی کی زیر سرپرستی پی ایچ ڈی کرنے والے بھوپال کے خالد عابدی بتاتے ہیں کہ دسنوی صاحب کے چچا سلیمان ندوی بھوپال میں رہتے تھے۔ لہذا دسنوی بھی ممبئی سے بھوپال آ گئے۔ یہاں کے مشہور سیفیہ کالج میں اردو کے پروفیسر ہو گئے۔ اتفاق سے ممبئی سے آنے کے بعد اس ادبی شہر سے ان کی ایسی وابستگی رہی کہ پلٹ کر بھی انہوں نے دوسرے شہر میں جانے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ اتنا ہی نہیں بھوپال سے انہیں اس قدر محبت ہو گئی تھی کہ اس پر انہوں نے تحقیقی کام کر دئے۔

دسنوی نے بھوپال کے بارے میں جو ریسرچ کیا تھا بعد میں اسے دو کتابوں کی شکل دیدی۔ بھوپال کے لئے فخر کی بات یہ ہے کہ ان دو کتابوں کو جوڑا گیا مشہور شاعر علامہ اقبال اور مرزا غالب سے۔ خالد عابدی بتاتے ہیں کہ دسنوی نے اپنی تحقیق کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا۔ پہلی کتاب کا نام تھا علامہ اقبال اور بھوپال اور دوسری کا نام تھا غالب بھوپال۔

سیاست سے دور مہمان نواز تھے دسنوی

خالد عابدی بتاتے ہیں کہ 1990 یہ وہ دور تھا جب ریزرویشن اور رام جنم بھومی کے مسئلہ پر سیاست گرم تھی۔ لیکن دسنوی جو سیاست سے دور رہتے تھے، اس کے بارے میں بھی کبھی کچھ بھی نہیں کہا۔ ان سب سے دور وہ ایک اچھے مہمان نواز تھے۔ ان کے گھر پہنچنے والا کوئی بڑا مہمان ہو یا ان کا شاگرد، ہر ایک کے ساتھ وہ برابری سے پیش آتے۔

عبدالقوی دسنوی نہ صرف اردو زبان کے جانکار تھے بلکہ اس وقت کے معروف مصنف بھی تھے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات کے لئے آج دنیا بھر میں انہیں جانا جاتا ہے۔ دسنوی نے تو ویسے کئی مشہور کتابیں لکھی ہیں، لیکن اس میں 'حیات ابوالکلام آزاد' کا اردو ادب میں ایک الگ ہی مقام ہے۔ یہ کتاب مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی پر لکھی گئی تھی جو سال 2000 میں شائع ہوئی تھی۔

اردو کے معروف ادیب اور درجنوں کتابوں کے مصنف فاروق ارگلی نے نیوز ۱۸ کے ساتھ بات چیت میں بتایا کہ بھوپال کے سیفیہ کالج میں دسنوی نے تیس سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ وہ یہاں سے شائع ہونے والی مشہور سیفیہ میگزین کے ایڈیٹر بنائے گئے۔ سیفیہ کالج جہاں صرف بی اے تک کی تعلیم ہوتی تھی، دسنوی کے یہاں آنے کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر ایم اے کا شعبہ قائم کرایا۔ اسی کالج میں انہوں نے سیفیہ لائبریری قائم کی جو ملک و بیرون ملک میں ایک مثالی لائبریری کی حیثیت رکھتی ہے۔

فاروق ارگلی نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سات جولائی دو ہزار گیارہ کو ان کے انتقال کے بعد عبد القوی دسنوی: حیات وخدمات کے عنوان سے ملک و بیرون ملک کے ممتاز قلمکاروں کی تحریروں کا مجموعہ خود مرحوم کے اہل خانہ کو مرتب کر کے چھپوانا پڑا۔

اردو زبان وادب پر سند کا درجہ رکھنے والے فاروق ارگلی نے اس بات پر شرمندگی ظاہر کی کہ عبدالقوی دسنوی: حیات وخدمات اور اردو کے نام پر کوٹھیاں، بنگلے بنانے والے اشرافیہ، لاکھوں کمانے والی تدریسی برادری اور اردو کے لئے ہم جیسے بے تیغ لڑنے والوں کو بھی ایسے کسی کام کی توفیق نہ ہوئی جو اردو کی اس عہد آفرین شخصیت کے شایان شان خراج عقیدت کے ساتھ خود ہمارے لئے بھی باعث عزت ہوتا۔

کون ہیں دسنوی کے شاگرد خالد عابدی ؟

اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والے خالد عابدی بھوپال کے ہی رہنے والے ہیں۔ آج وہ بھوپال میں ایک بڑی لائبریری چلا رہے ہیں۔ انہیں کتابیں جمع کرنے اور دوسروں کو ان سے فیضیاب کرانے میں بیحد دلچسپی ہے۔ خالد عابدی نے دسنوی کی رہنمائی میں ہی پی ایچ ڈی کی تھی۔

دسنوی کو گوگل بھی دے رہا ہے مبارکباد

گوگل آج اردو مصنف عبد القوی دسنوی کی 87 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ گوگل نے آج اپنے ڈوڈل کے لوگو پر ان کی تصویر لگائی ہے۔ ڈوڈل کو اردو لکھاوٹ میں ڈیزائن کر کے دسنوی کو کچھ الگ انداز میں مبارکباد دی ہے۔

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز