ورون گاندھی کا مودی حکومت پر بڑا حملہ ، کہا : دو برسوں میں 50 ہزار کسانوں نے کی خودکشی اور امیر قرض لے کر بھاگے بیرون ملک

Feb 22, 2017 07:22 PM IST | Updated on: Feb 22, 2017 07:22 PM IST

اندور: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فائر برانڈ لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ ورون گاندھی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران 50 ہزار سے بھی زیادہ کسانوں نے چھوٹے موٹے قرض کی وجہ سے خود کشی کر لی جبکہ دوسری طرف وجے مالیا 10 ہزار کروڑ روپے کا قرض لے کر ملک سے فرار ہو گیا۔ بی جے پی کے رہنما مسٹر گاندھی نے ایک پرائیویٹ اسکول کے پروگرام میں شامل ہونے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ملک میں دو برسوں میں 50 ہزار سے زیادہ کسانوں نے چھوٹے قرض کی وجہ سے خود کشی کی جبکہ، سرکاری اعداد و شمار میں یہ تعداد محض ساڑھے سات ہزار ہی ہے۔دوسری طرف وجے مالیا نے ہزاروں کروڑ روپے کا قرض لیا اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ امیر خاص طور پر بڑے گھرانوں کے لوگوں کا قرض معاف ہو جاتا ہے جبکہ غریب کی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے اقتصادی عدم مساوات پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ وجے مالیا کا ضامن بتا کر جس منموہن سنگھ کو گرفتار کیا گیا، اس کے بینک اکاؤنٹ میں صرف 1100 روپے ملے تھے۔ آج وہ ضامن جیل میں ہے اور مالیا بیرون ملک گھوم رہا ہے۔

ورون گاندھی کا مودی حکومت پر بڑا حملہ ، کہا : دو برسوں میں 50 ہزار کسانوں نے کی خودکشی اور امیر قرض لے کر بھاگے بیرون ملک

مسٹر گاندھی نے کہاکہ 15 برسوں سے کسانوں کی اصل کمائی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ سال 1980 میں یہ 5 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی تھی۔ وہیں سال 1990 میں یہ 2 فیصد ہو گئی۔ اقتصادی عدم مساوات کی حالت یہ ہے کہ لوگ صرف اس وجہ سے لاش ہسپتال کے باہر چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کے پاس آخری رسومات ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے صحت سے متعلق کہا کہ ملک میں تقریباً پانچ ہزار بچے ہر سال صحت کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں۔ صحت کی وجوہات سے ہر سال 2 کروڑ سے زیادہ لوگ غریب ہو جاتے ہیں۔ بیرون ملک ہر غریب شخص کا سرکاری انشورنس ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے۔

اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں اہم ذمہ داری نہ دیے جانے کے سوال کے جواب میں مسٹر گاندھی نے خاموشی اختیار کی۔ اس سے قبل وہ اندور سے اجین گئے اور مہاکال کے درشن کے بعد کل شام وہ یہاں لوٹ آئے تھے۔ بی جے پی لیڈر نے ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کو دھوکہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں بولتی رہتی ہیں کہ ملک کی جی ڈی پی 7 فیصد رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کسانوں کی آمدنی صرف 1200 روپے ہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ملک کے صرف 3 افراد کی دولت جمع کی جائے تو وہ 20 ریاستوں کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ جس ملک میں غذائی قلت سے لوگ مر رہے ہیں وہاں ہر سال اتنا گیہوں برباد ہوتا ہے جسے ایک کے اوپر ایک رکھا جائے تو آدمی چاند تک پہنچ جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز