مدھیہ پردیش میں کسانوں کی ہڑتال جاری ، گاؤں سے دودھ اور سبزیاں نہیں پہنچ ہیں  شہر

Jun 05, 2017 11:23 PM IST | Updated on: Jun 05, 2017 11:23 PM IST

بھوپال : مدھیہ پردیش کے ہر ضلع میں کسانوں نے اپنی مانگو ں کولے کرکے دس دنوں کی ہڑ تال کا علان کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے پوری ریاست میں سبزی اور دودھ کم آنےسے مہنگائی کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ مد ھیہ پردیش میں ان تین دنوں میں نہ جانے کتنے لیٹر دودھ اور لاکھو ں کی سبزیوں کو کسان اپنی ہڑتال کے دوران بر باد کر چکے ہیں ، مگر حکومت کی کان پر جو تک نہیں رینگ رہی ہے۔ ایسے حالات میں کسانوں اپنی ہڑتال کو دس جون تک جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں ۔

کسانوں کا کہنا ہے بی جے پی جب سے اقتدار میں آ ئی ہے، اس نے کسانوں کے قرض معاف کرنے سےلے کر کسانوں کے فائدے کے لیے کئی وعدے کیے تھے ، مگر حکومت اپنے وعدوں کو آج تک پورا نہیں کر پائی ہے ۔ بھارتیہ کسان یونین نے سخت رخ اپناتے ہوئے گاؤں سے دودھ ، سبزی اور اناج کی آمد پر روک لگا دی ہے ۔

مدھیہ پردیش میں کسانوں کی ہڑتال جاری ، گاؤں سے دودھ اور سبزیاں نہیں پہنچ ہیں  شہر

کسانوں کے مطابق جہاں حکومت کسانوں کا قرص معاف نہیں کر رہی ہے ، وہیں انہیں منڈیوں میں ان کی سبزیوں کی اچھی قیمت بھی نہیں مل پا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دلالی اس قدربڑھ گئی ہے کہ کسانوں کو نقصان کا سا منا کرنا پڑرہا ہے ، جس پر حکومت روک لگانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔

بھوپال کی سبزی منڈی پر اس تین دن کی ہڑتال کا اثر صاف دکھا ئی دے رہا ہے کیونکہ بازار میں سبزی نہ آ نے سے سبزیوں کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ کسانوں کی اس ہڑتال کا اثر بھلے ہی حکومت پر نہ ہو رہا ہو ، لیکن اس ہڑتال کا اثر عام لوگوں کی جیب پر ضرور پڑ رہا ہے ۔ لوگ مہنگی سبزیاں خریدنے پر مجبور ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز