چین کے ماہرین نے خلا میں 2 نئے ستارے دریافت کئے

Oct 13, 2017 06:50 PM IST | Updated on: Oct 13, 2017 06:50 PM IST

بیجنگ۔  چین کے ماہرین نے دنیا کی سب سے بڑے ٹیلی اسکوپ سے خلا میں 2 نئے ستارے دریافت کئے ہیں۔ یہ ستارے زمین سے 16 ہزار نوری سال اور 4 ہزار ایک سو نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جن کی معمول کی گردش کا عرصہ 1.83 سکینڈ اور 0.59 سیکنڈ ہے۔ ستاروں کی دریافت سے متعلق ماہرین گزشتہ ایک سال سے سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سال بعد انہیں بالآخر اس میں کامیابی ملی ہے اور انہوں نے چین کی سب سے بڑی سنگل ڈش ریڈیو ٹیلی اسکوپ فاسٹ سے ستاروں کا سراغ لگایا ہے۔

چین کی قومی خلائی رصد گاہ (آسٹرو نومیکل آبزرویٹریز) کے مطابق ان دو ستاروں کو جے 1859-01 اور جے 1931-01 کا نام دیا گیا ہے، یہ ستارے زمین سے 16 ہزار نوری سال اور 4 ہزار ایک سو نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جن کی معمول کی گردش کا عرصہ 1.83 سکینڈ اور 0.59 سیکنڈ ہے۔ ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ چین کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ کے حجم کے مساوی ٹیلی اسکوپس کو عمومی

چین کے ماہرین نے خلا میں 2 نئے ستارے دریافت کئے

چین کے صدر: فائل فوٹو

طور پر آزمائش کے لیے تین سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن ایک سال میں ہی ایسی دریافت بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔

چین کی قومی اجرامِ فلکی رصد گاہ کے چیف کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ نے دو ستاروں کو جنوبی کہکشاں کی اسکیننگ کے دوران 22 اور 25 اگست کو دریافت کیا ۔

واضح رہے کہ چین نے خلا میں موجود ستاروں، کہکشاؤں اور پوشیدہ رازوں کو جاننے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دور بین تیار کی ہے۔ فاسٹ نامی اس ٹیلی اسکوپ کی تیاری میں تقریبا 18 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی اور اس کی تکمیل میں 5 برس کا عرصہ لگا۔ دوربین کا حجم فٹبال کے 30 اسٹیڈیم جتنا ہے جبکہ اس میں 500 میٹر قطر کے ریفلیکٹرز اور 4450 پینلز نصب کیے گئے ہیں علاوہ ازیں ٹیلی اسکوپ میں دیگر جدید آلات بھی نصب کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آسمان اور خلا کا نظارہ دیگر کے مقابلے میں دگنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز