چین میں اب لوگوں کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی

Feb 28, 2017 04:01 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 08:57 PM IST

شنگھائی۔  چین میں جہاں کبھی صرف ایک بچہ کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا گیا تھا اب لوگوں کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے لئے کئی طرح کی رعایتیں دینے پر غور کیا جارہا ہے کیونکہ معاشی تنگی کی وجہ سے لوگ دوسرا بچہ نہیں چاہتے۔ چین میں 2016 میں شرح آبادی 1.786 کروڑ رہی جو 2000 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2015 میں تمام والدین کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

توقع کےمطابق آبادی میں اٖضافہ تو ہوا مگر اب بھی اس راستہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ گو حکومت نے دو بچوں کی اجازت دے دی ہے مگر معاشی حالات کی وجہ سے لوگ کنبہ بڑھانے سے گریز کررہے ہیں۔2015 میں کمیشن کے سروے میں پایا گیا کہ 60 فیصد کنبہ غربت کی وجہ سے دوسرا بچہ نہیں چاہتے۔ اس لئےاب حکومت اس کی ترغیب دینے کے لئے کئی طرح کی سہولیات اور رعایتیں دینے پر غور کررہی ہے۔

چین میں اب لوگوں کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی

چین نے 1970 کی دہائی میں بڑھتی آبادی کو روکنے کے لئے متنازعہ ایک بچہ پالیسی اپنائی تھی اور لوگوں پر جبر کیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ایک سے زیادہ بچہ پیدا نہ کریں۔ اسے بہت بڑی کامیابی سمجھا گیا تھا۔ چین میں آبادی بڑھنے کی شرح دنیا میں بہت کم ہوگئی تھی۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ کام کرنے والی جوان آبادی گھٹ گئی اور بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہوگئی جس سے حکام فکرمند ہوگئےہیں اور اب اس پالیسی کو بدلناچاہتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز