یونان : ايتھنز ميں پہلی باقاعدہ مسجد کی تعمیر کا کام شروع ، مقامی مسلمان حيرت زدہ

Feb 26, 2017 08:17 PM IST | Updated on: Feb 26, 2017 08:18 PM IST

ايتھنز : يونانی دارالحکومت ايتھنز ميں پہلی باقاعدہ مسجد کی تعمير پر 17 برس کی تاخير کے بعد بالاخر کام شروع ہو گيا ہے ۔ تاہم شہر ميں رہنے والے مسلمان مسجد کی تعمير کے پايہ تکميل تک پہنچنے کے بارے ميں کچھ زيادہ پر اميد نہيں۔ ايتھنز ميں ايک مترجم کی حيثيت سے رہنے والے نصراللہ عابد کا مسجد کے تعمير کے بارے ميں کہنا ہے کہ ميں کافی عرصے سے لوگوں کو اس بارے ميں بات چيت کرتے ہوئے سن رہا ہوں، ميں اسی وقت مانوں گا جب يہ ميرے سامنے ہو گا۔عابد نے يہ بات نيوس کوس موس نامی ايک محلے ميں قائم ايک غير سرکاری مسجد ميں کی، جہاں وہ نماز ادا کرنے آئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ايتھنز ميں تين لاکھ مسلمان مقيم ہيں، جو شہر ميں قائم درجنوں غير سرکاری مساجد ميں نماز ادا کرتے ہيں۔ يہ مساجد مختلف گيراجوں وغيرہ ميں قائم ہيں۔ يونانی دارالحکومت ايتھنز ميں غير سرکاری مساجد کا نيٹ ورک پاکستان، افغانستان اور مصر سے تعلق رکھنے والے تارکين وطن کی آمد کے بعد وجود ميں آيا۔

یونان : ايتھنز ميں پہلی باقاعدہ مسجد کی تعمیر کا کام شروع ، مقامی مسلمان حيرت زدہ

ادھر ايتھنز کے ڈپٹی ميئر اور مہاجرين سے متعلق امور کے نگران ليفٹيرس پاپاگياناکس کا کہنا ہے کہ يورپی يونين کے رکن ملکوں کے دارالحکومتوں ميں ايتھنز اب وہ واحد شہر ہے، جہاں اب بھی مسلمانوں کی باقاعدہ عبادت گاہ موجود نہيں۔ ان کے بقول اگر مقصد انتہا پسندی کے فروغ سے بچنا ہے، تو اس کے ليے تو زيادہ موزوں تو يہی ہو گا کہ عبادت کی کوئی سرکاری جگہ ہو، نہ کہ غير سرکاری مساجد کا نيٹ ورک۔

قابل ذکر ہے کہ مسجد کے قيام کے منصوبے کو کافی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ ابتدا ميں مسجد کی تعمير کے ليے جس مقام کا انتخاب کیا گيا، وہاں کئی احتجاجی مظاہرے جاری ہوئے ۔ کئی سال تک جاری رہنے والے مسائل کے بعد سن 2013 ميں اس منصوبے کو دوبارہ لانچ کيا گيا اور پھر گزشتہ برس اگست ميں يونانی پارليمان ميں رائے شماری اور مسجد کی تعمير کے ليے نو لاکھ چھياليس ہزار يورو کی منظوری کے بعد اس منصوبے کو اب آگے بڑھايا جا رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز