دہلی پولیس کو ایک ہفتہ کیلئے ہمیں دیدیں ، نجیب کو ہم ڈھونڈ لیں گے : وزیر اعلی اروند کیجریوال

Nov 19, 2017 11:15 AM IST | Updated on: Nov 19, 2017 11:33 AM IST

نئی دہلی : دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دعوی کیا ہے کہ اگر ایک ہفتہ کیلئے دہلی پولیس ان کے ماتحت کردی جائے تو وہ گمشدہ نجیبب کو ڈھونڈ کر لے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ، دہلی پولیس نجیب کو ڈھونڈ نہیں پائی ، اس لئے کہ وہ مرکزی حکومت کے ماتحت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ در اصل دہلی پولیس نجیب کو ڈھونڈ کیلئے قدرے سرگرمی کا مظاہرہ کرتی ہے ، تو اوپر سے فرمان جاری ہوجاتا ہے اور پھر دہلی پولیس اس فرمان کے آگے اپنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور اپنی سرگرمی ترک کردیتی ہے ۔

آج رات جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم کے وسیع و عریض احاطے میں ایک شام مولونا محمد علی جوہر کے نام کے منعقدہ کل ہند مشاعرہ میں دہلی کے وزیر اعلی نے نجیب معاملہ میں اپنی مکمل بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نجیب کی بوڑھی ماں سے ملنے جے این یو گیا ، نجیب کی ماں اپنے گمشدہ بیٹے کی بازیابی کیلئے میرے گھر آئیں ، میرے دفتر میں بھی انہوں نے حاضری دیں ، یہاں تک کہ جب دہلی احتجاج کررہی نجیب کی ماں کو گرفتار کرکے تھانے لے گئی تب بھی میں فورا تھانہ پہنچ کر انہیں رہا کرایا ، ہم نے انہیں بھرپور مدد کی کی یقین دہانی کرائی ، لیکن یہ معاملہ چونکہ دہلی پولیس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور دہلی پولیس مرکز کے ماتحت ہے ، اس لئے میں نجیب کے معاملہ میں اب تک کچھ نہ کرسکا ۔

دہلی پولیس کو ایک ہفتہ کیلئے ہمیں دیدیں ، نجیب کو ہم ڈھونڈ لیں گے : وزیر اعلی اروند کیجریوال

مشاعرہ میں ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے دعوی کیا کہ ہمارے تعلیم کا محکمہ ہے ، ہم نے تعلیم کے شعبے میں بہتری لائی ، اسکولوں کی حالت بہتر کی ، درس و تدریس کا نظام بہتر کیا اور ہم مزید بہتری کیلئے مسلسل کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہمارے دائرہ اختیار دہلی کے اسپتال ہیں ، ہم نے اسپتالوں میں نظم و نسق کو بہتر کیا ۔ ہمارے پاس پی ڈبلیو ڈی ہے ، ہم نے اسے بھی ٹھیک کردیا ، لیکن ہمارے پاس دہلی پولیس نہیں ہے ، جس کی وجہ سے ہم اس معاملہ میں مجبور و بے بس ہیں ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اگر صرف ایک ہفتہ کیلئے اگر دہلی پولیس انہیں دیدی جائے تو وہ نجیب کو ڈھونڈ کر اس کی روتی بلکتی ماں کے حوالے کردیں گے ۔

ملک میں جاری فرقہ وارانہ منافرت کے ماحول پر بولتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ اس ملک کا مسلمان ہندو سے اور ہندو مسلمان سے پیار کرتا ہے ۔ بس دس پندرہ فیصد لوگ ہی ایسے ہیں ، جو دہشت گردی پیدا کرتے ہیں ۔ وہ لوگوں کو دہشت میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ جو کہیں آپ اسے ہی سنیں اور اس پر عمل کریں اور اگر آپ ان کے مطابق نہیں چلتے ہیں تو پھر ملک میں روہت ویمولہ اور نجیب کے معاملات سامنے آتے ہیں ۔

 

NAJEEB

مرکز کی مودی حکومت پر بالواسطہ طور پر حملہ کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو مسموم کردیا گیا ہے ۔ اس کے سماجی تانے بانے بکھیر دئے گئے ہیں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی جگہ فرقہ وارانہ منافرت نے لے لی ہے ، ملک میں پیار و محبت کی بجائے نفرت کی سیاست کرنے والے اور نفرت باٹنے والے یہ لوگ نہ ہندو ہیں او رنہ ہی مسلمان بلکہ وہ شیطان ہیں ، جو معمولی سی بات پر انسانیت کا قتل کردیتے ہیں ۔

mushaira okhla 3

وزیر اعلی اپنے خطاب کے اختتام پر مجمع سے اپیل کی کہ وہ ملک میں نفرت کی سیاست کرنےو الوں کو مسترد کردیں اور پیار و محبت کی بات کرنے والوں کے ہاتھوں کو مضبوط کریں ۔ خیال رہے کہ اس مشاعرہ کا اہتمام اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے کیا تھا ۔ مشاعرہ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے علاوہ بڑی تعداد میں عام آدمی پارٹی کے کارکنان اورعلاقہ کی سماجی و ملی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز