دیکھتی ہیں خواب آنکھیں مانگتا تعبیردل

Aug 10, 2017 10:56 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 10:56 PM IST

کانگریس کی سیاسی خشک سالی میں کامیابی کی تھوڑی سی اوس گری ہے تو جشن کاسا سماں ہے ۔ ہرطرف پٹاخے پھوڑے جارہے ہیں ایک سیٹ کی جیت نے سرشاری وشادمانی کے نشہ میں ڈبودیاہے۔ ایسالگتا ہے کہ پانی پت پلاسی کی جنگ جیت لی ہے ۔ یقینا اس سیٹ کے بہت سے سیاسی معانی ہیں اوراگر کانگریس کے ارباب حل وعقد چاہیں گے تو اس غیریقینی جیت کو جدوجہد کے آغاز میں بدل سکتے ہیں ۔ بی جے پی کو اس بات کا کریڈٹ دیا جاناچاہئے کہ اس بہانے کانگریس قیادت کو محلوں سے اٹھاکرگلی کوچوں میں جانے ،رات رات بھر جاگنے،دن بھر پسینہ بہانے اور ایک ایک ایم ایل اے کے ہاتھ پیرجوڑنے وخوشامد پر مجبور کردیا ،جو لوگ شہنشاہ بنے پھرتے تھے ، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ گھنٹوں ڈرائنگ روم میں انتظارکرانے میں لذت محسوس کرتے تھے ان کی دھڑکنیں بے ترتیب کردیں سانسیں تھما دیں اور یہ سبق یاد دلایاکہ اقتدار یونہی نہیں مل جاتی اس کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ عام لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا پڑتاہے۔ ان کو اپنا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بھلے ہی اس سیٹ کے بہانے پرانے حساب بے باق کرنے اورکانگریس کے قلعہ میں شب خوں مارنے کامنصوبہ بناہوجو حکمت عملی میں کسی کمی کی وجہ سے ناکام ہوگیا مگراس واقعہ نے کانگریس کی جڑیں ہلادی ہیں ،اس کے پائوں تلے سے زمین نکال دی۔ ظاہرہے جنہوں نے ملک کو کانگریس مکت بنانے کاعزم کیاہے وہ چین سے نہیں بیٹھیںگے ۔ کوئی اور راستہ تلاش کریں گے جب شیر کی ماند میں ہاتھ ڈال دیاجائے تواندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ معاملہ کس حد تک نازک ہے اس قلعہ کا پھاٹک اندار کے سنتریوں سے کھلوایا گیا وہ صرف کھڑکیاں ہی کھول سکے تو کسی زنجیر بھی توڑ ی جاسکتی ہے ۔ اسے جولوگ سیکولر زم کی فرقہ پرستی پر جیت سمجھ رہے ہیں اور ہزار شکرانہ ادا کررہے ہیں ،اطمینان وخوشی کی چمک ان کے چہروں سے پھوٹتی روشن سے چھلکتی ہے۔ وہ اس جیت کو سیکولرزم مضبوط کرنے کی راہ سمجھتے ہیں اور سیکولر طاقتوں سے امن وامان اور سیکولرزم کی بقا کے لیے متحد ہونے کی اپیل کربیٹھتے ہیں۔ اس میں ان کی سادہ لوحی اورسیکولرزم کے تئیں اعتماد وپختہ یقین ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ چھوٹی کامیابی پر بھی خوش ہوجاتے ہیں اورخالص سیاسی لڑائی کو بھی سیکولرزم بنام فرقہ پرستی کی جنگ میں تبدیل کردیتے ہیں ۔یہ احمدپٹیل اور امت شاہ کے مابین سیاسی انتقام ،دبدبہ اور بالادستی کی لڑائی تھی جس میں قسمت نے سونیا گاندھی کے مشیر کاساتھ دیا ورنہ ان کی ہارتو ہوگئی تھی اگر آخر وقت میںکانگریس کے دوباغی ممبران کی تکنیکی غلطی سامنے نہ آتی تو ان کا کام تمام ہوگیا تھا۔

دیکھتی ہیں خواب آنکھیں مانگتا تعبیردل

یہ نتیجہ ایک اورپہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کسی فوج کو لگاتار کامیابی ملتی ہیں تو اس کو جیت کا چسکا لگ جاتا ہے ۔ پھر وہ صحیح وغلط کا امتیازبھول جاتی ہے وہ اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر جائزوناجائزقدم اٹھانے سے نہیں جھکتی ۔اپنی قلمرو کی توسیع کا جنون انسانی بستیوںکو بھی ویران کردیتا ہے یہ ویرانی اس کی دیوانگی کو اوربڑھا تی ہے۔ اپنے حق میںہزارخون معاف سمجھتی ہے۔ آج ملک کی 18ریاستیں اس کے بظاہر مفتوح ہونے کااشارہ کررہی ہیں۔ اس کی خوداعتمادی کایہ حال ہے کہ کانگریس کے قلعہ یعنی دس جن پتھ تک مارچ کرنے پہنچ گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلے حملہ میں اسے ناکامی ملی اسے خراش آگئی ہیں ان کی ٹیس زیادہ ہے اس رقص بسمل پر نقارے بجانے اورڈھول پیٹنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ مہلت کادقفہ ہے اس سے فائدہ اٹھانے ،شکست خوردہ فوج کے بھاگے ہوئے سپاہیوں کو جمع کرنے اورانہیں منظم کرنے کا مختصر ساموقع ہے کیونکہ چوٹ کھایا سانپ زیادہ خطرناک اورجارح ہوتا ہے سارازہر ایک ساتھ تھوک دیتا ہے ۔ بی جے پی اپنی غلطی اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کے سبب ہاری ہےاوراحمدپٹیل اپنی قسمت کی وجہ سے جیتے ہیں یہ بڑا عبرت انگیزہے کہ جو دوسروںکاکھیل بنانے اوربگاڑنے کی طاقت رکھتاتھا اسے اپنابچانے کے لئے دردر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔

کانگریس اسی وقت ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزررہی ہے۔ ڈوبتے جہاز سے بڑے بڑے چوہے کودکر بھاگ رہے ہیں۔ سایہ بھی ساتھ چھوڑ نے لگا ہے کانگریس قیادت یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہے کہ بھارت بدل چکاہے جیسا کہ اس کے تھینک ٹینک جے رام رمیش کاخیال ہے کہ ہم سلطنت کھوچکے ہیں اور خود کو سلطان سمجھ رہے ہیں۔ پارٹی سنگین ترین بحران سے گزر رہی ہے۔ پرانے طورطریقہ بدلنانہیں چاہتی اسے امت شاہ مودی کی جوڑی کا سامناہے۔ جس نے سیاست کی پرانی روایتیں بدل دی ہیں۔ ملک کئی قسم کی سیاست سے دوچار ہے۔ مودی نیابھارت بنانے کی مہم میں لگے ہیں اور 2022تک ٹارگیٹ مکمل کرناچاہتے ہیں ان کا نیابھارت کس طرز کا ہوگا ۔گزشتہ تین سال کے دوراقتدار میں اس کا ٹریلر آچکا ہے اس بارت میں مہاراناپڑتاپ سنگھ اکبر دی گریٹ کو شکست دیتے ہوئے نظرآرہے ہیں ۔ شیوراج جی نے مغلوں کا ’سروناش‘ کردیا جو ویر ساورکر،گولوالکر اور دین دیال اپادھیائے کا بھارت ہوگا جہاںگاندھی چالاک بنیااورنہرو ملک کو سنگین غلطیوں کے حوالے کرتے دکھائی دیں گے۔جہاں بچے گائے ، گیتا اورگنگا کے بارے میں زیادہ واقف ہوں گے۔ وہ یوگ کے ساتھ سوریہ نمسکارکرنے کے پابندہوںگے ۔ جمہوریت کی جگہ صدارتی نظام نافذہوگا اورراشٹرواد پہلاوآخری دھرم ہوگا۔ ’دیش ہت‘میں بولنے اورخاموش رہنے کے لئے پیمانے ایجاد ہورہے ہیں کونسی چیز کب دیش ہت کے دائرے میں لالدی جائے یہ حکمرانوں کی صوابدید پرہوگا ۔ ذراخوف کا ماحول بڑی محنت اور لیاقت سے بنایاجارہاہے ۔ مذہبی شخص کی علامتوںکودھیرے دھیرے کھرچ کر ختم کردیاجائےگا۔ کانگریس کو مبارکباد دینی چاہئے کہ اس نے گزشتہ60 سالوں میں ملک کو جہاں پہنچادیا بی جے پی ایماندار ی کے ساتھ اس کے باقی چھوڑگئے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچادی ہے۔کانگریس سیکولرزم کی کھال پہن کر شکار کئے وہیں بی جے پی کو اس تکلیف کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی منافقانہ اور عیارانہ سیاست نے صرف اقلیتوں کو ہی بے وقوف نہیں بنایا اور انہیں سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق دلتوں سے بھی بدتر مقام پر لاکرچھوڑ دیا ۔ یہ سوال خود سے پوچھتے کہ جب ملک کی باگ ڈور چندسالوں کو چھوڑ کر سیکولرپارٹیوں خاص طور سے کانگریس کے ہاتھ میں رہی توفرقہ پرست اورفسطانی قوتیں اپنی مضبوط وتوانا کیسے ہوگئیں کہ وہ بھرپور اکثریت کےساتھ ملک پر قابض ہوگئیںاورآدھی سے زائد ریاستیں ان کی مٹھی میںآگئیں کیایہ عوام یارائے دہندگان کی غلطی ہے یاسیاسی سیکولر عناصر کی سازش ۔ مسلمانوں نے اپنی رگوں میں موجود خون کاایک قطرہ اپنے جان نثارمخلص رہنمائوںکی ہدایت پرکانگریس کو چڑھادیا۔ اب وہ خود جانکنی کے عالم میں ہیں۔ ڈراورخوف کایہ عالم ہے کہ تھوڑی سی مصیبت یاآزمائش میں دعائے قنوت پڑھی جاتی تھی اب اس کی بھی ہمت نہیں کہ مساجد میں دعائے قنوت پڑھ لی جائے کہ حکومت کو رپورٹ ہوسکتی بعد اس کے نتیجہ میںبازپرس کی جاسکتی ہے۔ مسلم قیادت کے سواداعظم کے پاس اس بحران سے نکلنے کا کوئی نسخہ نہیں ۔کانگریس اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے شکست سے دوچار ہے ہماری مجبوری یہ ہے کہ جیساکہ بتایاجاتا ہے کہ اورکوئی راہ کامیاب نہیںہے اگر پائپٹنک ڈوب رہا ہے تو بہتر یہ ہے کہ وفادری کے عہد کے ساتھ ہم دل سے کرتے ہیں وہ قدم قدم پر بدعہدی کرتے ہیں اپنے مفادات کے مطابق پالیساںبدلتے ہیں جیسے ٹرین کو منزل تک جانے کے لئے ٹریک بدلنا پڑتاہے مثلاًنتیش کمارنے مہاگٹھ بندھن توڑکرپھربی جے پی سے پرانا راستہ جوڑلینا اب زہ فرقہ پرست میں یاسیکولر یہ توہمارے معززقائدین عظام ہی بتائیں گے لیکن ہندوستانی سیاست کا مزاج یہی ہے کہ ضرورتوں کے مطابق گٹھ بندھن بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ کسی ایک کھونٹے سے بندھے رہنا ذہانت نہیں سیاسی حماقت ہے ۔ کانگریس کو ایک جیون دان ملا ہے وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے گی یاراہل کی پارٹ ٹائم پالیٹکس جاری رہے گی۔ وہ کونسی پارٹیاں ہیں جو سیکولر کہی جاسکتی ہیں کیونکہ وہ کندھا بدلتی رہتی ہیں ان کی نشاندہی کی جائےبراہ کرم لڑائی اور گھر کے بھیدی نے اس لڑائی کومشکل بنادیا تھا بی جے پی نے اس کا فائدہ اٹھایا۔یہ نئے اورپرانے بھارت کی لڑائی ہے جس میں سب کچھ نیاہے پرانے اوزاربے اثر ہوگئے ہیں ۔شہنشاہی مزاج کام نہیں آئے گا۔ صرف بیان بازی اورکانفرنسیں مداوا نہیں کریں گی۔ پرانے امراض کا علاج جدید طریقوں کو اپنا کر ہی ہوگا۔ ہماراکوئی مسئلہ نیانہیں ہے ۔کانگریس کے پیداکردہ ہیں ۔بی جے پی ان کی دھارتیز کررہی ہے اور جنہیں ہم اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں ان سے خیرکی امید نہیں رکھنی چاہئے جنہیں اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے برابھلاکہتے ہیںان کو ہماری گردن مروانے کا بھرپور موقع ملاہے تو وہ اسے کوئی چھوڑدیں گے۔ہماری سیاسی قیادت ذہنی دیوالیہ پن کی شکار ہے ،انجام تو بھگتناہوگا۔

از قاسم سید

نوٹ : قاسم سید روزنامہ خبریں کے ایڈیٹر ان چیف ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز