فلم لپسٹک انڈر مائی برقع کو سنسر بورڈ نے نہیں دی ہری جھنڈی ، تنازع نے پکڑا طول

لپسٹک انڈر مائی برقع کو ممبئی فلم فیسٹیول میں سب سے بہترین فلم کا آکس فیم ایوارڈ مل چکا ہے اور ٹوکیو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی اسے دی اسپرٹ آف ایشیا پرائز دیا جا چکا ہے۔

Feb 24, 2017 01:42 PM IST | Updated on: Feb 24, 2017 01:42 PM IST

ممبئی : پرکاش جھا کی نئی فلم لپسٹک انڈر مائی برقع کو سنسر بورڈ نے سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ النكرتا شریواستو کی ہدایت میں بنی اس فلم کو پرکاش جھا نے پروڈیوس کیا ہے۔ لپسٹک انڈر مائی برقع کو ممبئی فلم فیسٹیول میں سب سے بہترین فلم کا آکس فیم ایوارڈ مل چکا ہے اور ٹوکیو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی اسے دی اسپرٹ آف ایشیا پرائز دیا جا چکا ہے، لیکن سینسر بورڈ کو یہ فلم راس نہیں آئی۔

فلم کو پاس نہیں کرنے کے پیچھے سینسر بورڈ کی دلیل ہے کہ یہ کہانی خواتین پر مرکوز ہے اور اس میں معمول کی زندگی سے کہیں آگے بڑھ کر آگے کے منصوبے ہیں ۔ سینسر بورڈ کا کہنا ہے کہ اس میں کئی متنازع سیکسول سین ​​ہیں، گالی گلوچ والے الفاظ ہیں اور سوسائٹی کے کچھ ویسے حصے کو ٹچ کیا گیا ہے ، جو کافی حساس ہے، اس وجہ سے اس کو ہری جھنڈی نہیں دکھائی گئی ۔

فلم لپسٹک انڈر مائی برقع کو سنسر بورڈ نے نہیں دی ہری جھنڈی ، تنازع نے پکڑا طول

سینسر بورڈ کے اس فیصلہ کے بعد بالی ووڈ کی کئی شخصیات نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ٹوئٹر پر بھی بہت سے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ ہندوستان کے چھوٹے سے شہر کی کہانی پر مبنی فلم لپسٹک انڈر مائی برقع کونکنا سین شرما، رتنا پاٹھک شاہ، اهانا كمرا، پلابتا بورٹھاكر کے ارد گرد گھومتی ہے، جو آزاد زندگی جینے کی تمنا رکھتی ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز