ہندوستان میں گزشتہ سال گئوركشكوں کے تشدد میں اضافہ ہوا اور انتظامیہ قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہی : امریکہ

بین الاقوامی مذہبی آزادی سے وابستہ امریکہ کی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں سال 2016 میں گئوركشا گروپوں کی طرف سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

Aug 16, 2017 09:51 AM IST | Updated on: Aug 16, 2017 09:52 AM IST

واشنگٹن: بین الاقوامی مذہبی آزادی سے وابستہ امریکہ کی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں سال 2016 میں گئوركشا گروپوں کی طرف سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر واقعات مسلمانوں کے خلاف ہوئے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گئوركشكوں کے خلاف ہندوساتن میں انتظامیہ قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پہلی مرتبہ یہ رپورٹ آئی ہے ۔ اسے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے جاری کیا ۔

رپورٹ کے مطابق سماجی تنظیموں کے لوگوں نے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ بی جے پی حکومت کے تحت مذہبی اقلیتیں خود کو کافی کمزور محسوس کرتی ہیں ، کیونکہ ہندو قوم پرست گروپ غیر ہندوؤں اور ان کی عبادت گاہوں کے خلاف تشدد کر رہے ہیں ۔

ہندوستان میں گزشتہ سال گئوركشكوں کے تشدد میں اضافہ ہوا اور انتظامیہ قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہی : امریکہ

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایسی رپورٹس ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر قتل کیا گیا ، حملے کئے گئے، فسادات کئے گئے، امتیازی سلوک برتا گیا ، توڑ پھوڑ کی گئی اور لوگوں کو مذہبی عقیدے پر عمل کرنے سے روکنے کی کارروائی کی گئی ۔  اس نے کہا کہ گئوركشکوں کی طرف سے قتل کئے جانے، پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے اور دھمکانے جیسے پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر واقعات مسلمانوں کے خلاف ہوئے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز