Live Results Assembly Elections 2018

ورلڈ کپ سے قبل سرفراز احمد کی "کپتانی" پر پھر منڈلانے لگا خطرہ ؟ یہ ہے بڑی وجہ

آسٹریلیا کے بعد اب نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بھی دیکھا جائے تو بطور کپتان سرفراز احمد کا کردار کچھ خاص اچھا نہیں رہا ۔ ان کی کچھ حکمت عملی کچھ کارگر ثابت نہیں ہوئیں ۔ سرفراز کی ان کے کچھ فیصلوں کی وجہ سے بھی تنقید کی جارہی ہے ۔

Dec 07, 2018 04:33 PM IST | Updated on: Dec 07, 2018 04:33 PM IST

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان یو اے ای میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز جاری ہے ۔ تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان شکست کی کگار تک پہنچ گیا ہے ۔ 280 رنوں کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بلے بازی لڑکھڑا گئی ہے اور لنچ تک محض 55 رنوں پر اس کے پانچ اہم کھلاڑی پویلین لوٹ گئے ۔ پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں خراب کارکردگی کے بعد ایک مرتبہ پھر سرفراز احمد کی ٹیسٹ کپتانی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور ورلڈ کپ سے پہلے ٹیسٹ کی کپتانی پر خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔

آسٹریلیا کے بعد اب نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بھی دیکھا جائے تو بطور کپتان سرفراز احمد کا کردار کچھ خاص اچھا نہیں رہا ۔ ان کی کچھ حکمت عملی کچھ کارگر ثابت نہیں ہوئیں ۔ سرفراز کی ان کے کچھ فیصلوں کی وجہ سے بھی تنقید کی جارہی ہے ۔

ورلڈ کپ سے قبل سرفراز احمد کی

سرفراز احمد ۔ فائل فوٹو ۔

دراصل سرفراز احمد نے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں ایک بڑی غلطی بھی کردی ، جس کی وجہ سے بہت کچھ الٹ گیا ۔ میچ کے چوتھے دن نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز میں کپتان سرفراز کے بعد نئی گیند لینے کا موقع تھا ، مگر انہوں نے نہیں لیا، جس کی وجہ سے بھی وہ تنقید کی زد پر ہیں ۔ پاکستانی ٹیم میں ایسے تیز گیند باز ہیں ، جو کسی بھی موڑ پر میچ کا رخ پلٹ سکتے تھے ۔ کہا جارہا ہے کہ اگر سرفراز نے نئی گیند لے لی ہوتی تو ان کے تیز گیند باز وں کو اچھا موقع مل جاتا اور پھر میچ کا رخ کچھ اور بھی ہوسکتا تھا ۔

یہی نہیں اگر پاکستانی میڈیا کی مانیں تو جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز کیلئے سرفراز احمد کے ساتھ ساتھ ایک اور وکٹ کیپر محمد رضوان کو بھی پاکستانی اسکواڈ میں شامل کئے جانے کا امکان ہے ۔ اس بات سے بھی اشارہ مل رہا ہے کہ کچھ میچوں میں سرفراز کو آرام دیا جاسکتا ہے۔

Loading...

خیال رہے کہ اس سے قبل محسن خان نے بھی سرفراز کی ٹیسٹ کپتانی سے متعلق ایک بیان دے کر ہلچل مچادی تھی ، تاہم بعد میں انہوں نے یوٹرن لے لیا تھا ۔ محسن خان کا کہنا تھا کہ سرفراز کے اوپر سے دباؤ کو کم کرنے کے لئے ان سے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی واپس لے لینی چاہئے ۔

ان سب باتوں کے باوجود ورلڈ کپ تک پاکستان کی کرکٹ انتظامیہ کوئی بڑا فیصلہ شاید ہی کرے ۔ کیونکہ عالمی کپ میں اب صرف چند مہینے ہی باقی رہے گئے ہیں ۔ یوں بھی ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی کی کمان  سرفراز کے ہی ہاتھوں میں رہے گی اور اس پر کوئی نہ تو کوئی سوال اٹھ رہا ہے اور ہی کوئی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ صرف ان کی ٹیسٹ کپتانی کو لے کر چہ می گوئیاں ہورہی ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز