پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق کو اس بات پر آیا غصہ ، حیران رہ گئے سبھی پاکستانی– News18 Urdu

پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق کو اس بات پر آیا غصہ ، حیران رہ گئے سبھی پاکستانی

پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق نے ایک پرائیویٹ کمپنی کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان کے سبھی لوگ اس بات سے حیران ہیں کہ مصباح کو غصہ بھی آتا ہے ۔

Apr 24, 2019 05:09 PM IST | Updated on: Apr 24, 2019 05:09 PM IST

پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق نے ایک پرائیویٹ کمپنی کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان کے سبھی لوگ اس بات سے حیران ہیں کہ مصباح کو غصہ بھی آتا ہے ۔ خیال رہے کہ مصباح الحق کو پاکستان کا کیپٹن کول کہا جاتا ہے اور شاید ہی کبھی ان کو غصہ ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہو ۔ تاہم اب سوشل میڈیا پر ایک پرائیویٹ کمپنی کے خلاف مصباح الحق کے غصہ کا اظہار کرنے پر سبھی لوگ حیران ہیں ۔

دراصل مصباح الحق نے پرائیویٹ ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر ورلڈ کال کی سروس سے پریشان ہوکر سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ کیا ۔ مصباح نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ انہیں ورلڈ کال کی جانب سے فراہم کی جانے والی کیبل سروس سے سخت مایوسی ہوئی ہے جو کہ بمشکل ایک ہفتہ کام کرتی ہے اور پھر لامحدود عرصے کیلئے بند ہوجاتی ہے، جتنی مرضی شکایات کرلو ، لیکن کوئی جواب نہیں دیا جاتا ، کسی قسم کی سروس فراہم نہ کرنے کے باوجود بھی وہ مہینے کے پورے پیسے لیتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہے ۔

پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق کو اس بات پر آیا غصہ ، حیران رہ گئے سبھی پاکستانی

مصباح الحق ۔ فائل فوٹو ۔

مصباح کے اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ حیران ہیں اور ان کو یقین نہیں آرہا ہے کہ مصباح الحق کو بھی غصہ آسکتا ہے ۔ شہریار مرزا نام کے ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ اسٹوری آف دی ڈے : پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان اور ملک کے سب سے زیادہ متحمل انسان کو اپنے کیبل سروس کی شکایت کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑا ۔

احسن زوار نامی ایک اور صارف نے کیبل سروس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ ” جس شخص نے ساری عمر 20 پر 3 کھلاڑی آﺅٹ ہونے کی شکایت نہیں کی اس کو تنگ کردیا ہے تم لوگوں نے“۔

خیال رہے کہ مصباح الحق کی شبیہ ایک انتہائی ٹھنڈے مزاج شخص کی ہے جنہوں نے2010 میں فکسنگ کے باعث پستیوں میں گری ہوئی پاکستانی ٹیم کو سنبھالا ۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے پاکستانی ٹیم میں جاری سیاست کو بند کیا ۔

Loading...