پاکستان کرکٹ ٹیم میں نہیں ہونی چاہئے اس کرکٹرکی جگہ: رمیزراجہ

رمیزراجہ کے مطابق میں بہت مایوس ہوں کہ ہمیں گزشتہ دو تین سال میں کوئی بھی بلےباز نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے ہمیں شرجیل خان جیسے کرکٹرکے بارے میں سوچنے پرمجبور ہونا پڑرہا ہے، جس نے پاکستان کرکٹ کو نیچا دکھایا ہے۔

Aug 12, 2019 08:57 PM IST | Updated on: Aug 12, 2019 08:59 PM IST
پاکستان کرکٹ ٹیم میں نہیں ہونی چاہئے اس کرکٹرکی جگہ: رمیزراجہ

پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کا 2017 کا سیزن کرکٹرشرجیل خان کبھی نہیں بھولیں گے۔ پاکستان کےبائیں ہاتھ کےبلےبازپی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹیڈ کی طرف سےمیدان میں تھے۔ اسی ٹورنامنٹ میں شرجیل خان اورخالد لطیف اسپاٹ فکسنگ کےقصوروارپائےگئے۔ پانچ سال کی پابندی کی ان کی سزا کوبعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ کےاینٹی کرپشن ٹریبونل نے30 ماہ کا کردیا۔

اب شرجیل خان ستمبرمیں ہونے والی قائداعظم ٹرافی سےکرکٹ کےمیدان پرواپسی کرسکتے ہیں۔ حالانکہ پی سی بی کےافسرکےمطابق شرجیل کوٹورنامنٹ میں کھیلنےکی اجازت تبھی دی جائےگی، جب وہ اسپاٹ فکسنگ معاملےمیں اپنےملوث ہونےکا اعتراف کرتےہوئے معافی مانگیں گے۔ خبریں ایسی بھی ہیں کہ شرجیل خان اپنےکیریئرمیں دوبارہ قومی ٹیم کی جرسی پہنتے ہوئے نظرآسکتے ہیں۔

Loading...

حالانکہ پاکستان کےسابق کرکٹررمیزراجہ کا ماننا ہےکہ شرجیل خان جیسےانسان کی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں واپسی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ پاکستان کرکٹ میں کلی عدم برداشت (زیروٹولیرنس) کی حکمت عملی کےخلاف ہے۔ رمیزراجہ کےمطابق میں بہت مایوس ہوں کہ ہمیں گزشتہ دوتین سال میں کوئی بھی بلےبازنہیں مل سکا، جس کی وجہ سےہمیں شرجیل خان جیسےکرکٹرکے بارے میں سوچنے پرمجبورہونا پڑرہا ہے، جس نے پاکستان کرکٹ کونیچا دکھایا ہے۔

شرجیل خان پاکستان سپرلیگ کے 2017 کے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کے قصوروار پائے گئے تھے۔ شرجیل خان پاکستان سپرلیگ کے 2017 کے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کے قصوروار پائے گئے تھے۔

رمیزراجہ نےمزید کہا کہ کسی بھی معاشرے میں اس بحث کوکیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ شرجیل نےاپنی غلطیوں سےکچھ نہیں سیکھا ہے۔ ہمیں اس طرح کی چیزوں پرزیروٹولیرنس رویہ اپنانا ہوگا، تبھی ہمیں باصلاحیت کھلاڑی ملیں گے، جہاں تک بات اوپننگ جوڑی کی ہے توگزشتہ ایک دوسال میں فخرزماں اورامام الحق نےاچھی کارکردگی کی ہے۔ شرجیل خان نےستمبر 2013 میں پاکستان کےلئےڈیبیوکیا تھا۔ انہوں نے ابوظہبی میں شیخ زیاد اسٹیڈیم میں افغانستان کے خلاف ٹی -20 مقابلےمیں حصہ لیا تھا۔ اس کےبعد سےانہوں نےایک ٹسٹ، 25 ونڈے اور15 ٹی -20 مقابلے کھیلےہیں۔ انہوں نے ٹسٹ میں 44، ونڈے میں 812 اورٹی -20 میں 360 رن بنائے۔

Loading...