کرکٹ میں ہوئی دوتبدیلی، نئے ضوابط نافذ ہونے سےکپتانوں کوراحت، معطل ہونےکا خطرہ کم

لندن میں آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس میں ایک بڑی فیصلے کے تحت سست رفتارسے اوور ڈالنے پراب کپتان معطل نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے اب پوری ٹیم کو سزا ملے گی۔

Jul 19, 2019 04:46 PM IST | Updated on: Jul 19, 2019 04:56 PM IST
کرکٹ میں ہوئی دوتبدیلی، نئے ضوابط نافذ ہونے سےکپتانوں کوراحت، معطل ہونےکا خطرہ کم

گیند لگنے سے زخمی افغان کھلاڑی۔

کرکٹ آنے والے دنوں میں تبدیل شدہ اندازمیں نظرآئےگا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کچھ نئے ضوابط اورتبدیلیوں کومنظوری دی ہے۔ لندن میں آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس میں ایک بڑے فیصلےکےتحت سست رفتارسے اوورڈالنے پراب کپتان معطل نہیں ہوں گے۔ اس کےبجائےاب پوری ٹیم کوسزا ملےگی۔ ساتھ ہی اب سے کپتان اورباقی کھلاڑیوں پربرابرجرمانہ لگایا جائے گا۔

آئی سی سی کےفیصلے کےتحت 'سست رفتارسے اوورڈالنے پرسزامیں تبدیلی کی ہے۔ اب کپتانوں پرمعطل ہونے کا خطرہ نہیں ہوگا، لیکن سست رفتارسےاوورکرنے پرآئی سی سی ٹسٹ چمپئن شپ کےدوران کھلاڑیوں کے پوائنٹ کاٹے جائیں گے'۔ ابھی تک جوضوابط تھے، اس کےمطابق کپتان پرمیچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ لگتا تھا اورباقی کھلاڑی 10-10 فیصدی جرمانہ جھیلتے تھے۔ وہیں مسلسل تین میچوں میں ایسا ہونے پرکپتان پرپابندی لگ جاتی تھی۔ آئی سی سی کےنئے ضوابط سے کپتانوں کوکافی راحت ملے گی۔

Loading...

ایک دوسرے فیصلےمیں گیند سےزخمی کھلاڑی کی جگہ اس کی جگہ دوسرا کھلاڑی لے سکتا ہے۔ انگلینڈ اورآسٹریلیا کے درمیان ایشیزسیریزسےاس تبدیلی کی شروعات ہوگی۔ آئی سی سی نےبتایا 'جیسا کھلاڑی ہوگا اس کا متبادل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔ یعنی گیند بازکی جگہ گیند بازاوربلےبازکی جگہ بلے باز۔ اس طرح کی تبدیلی کےلئے میچ ریفری کی منظوری ضروری ہوگی۔ یکم اگست سے یہ تبدیلی نافذ ہوگی۔ اس کا مطلب ہےکہ ایجبسٹن میں ہونے والی مردوں کے ایشیزٹسٹ سے اس کی شروعات ہوگی'۔

سال  2017 سے شروع کی تھی ٹیسٹنگ

آئی سی سی نے گھریلوسطح پراس کے اس کے جائزے کے طورپراس کی شروعات 2017 میں کی تھی، جس کےبعد کرکٹ آسٹریلیا نے مردوں اورخواتین ونڈے اوربی بی ایل میں اسے نافذ کیا، لیکن شیفیلڈ شیلڈ میں اسے نافذ کرنے کے لئے اسے آئی سی سی کی منظوری کا انتظارکرنا پڑا تھا، جو اسے مئی 2017 میں ملی۔ گزشتہ کچھ سالوں میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہو، جس میں کھلاڑی گیند سرپرلگنے سے زخمی ہوگئے۔ ایسے میں کئی بارٹیموں کو کم کھلاڑیوں کے ساتھ رہنے کومجبورہونا پڑا۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے آئی سی سی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

Loading...