پی سی بی نے سزا کاٹنےکے باوجود کرکٹ میں واپسی کے لئےشرجیل خان کےسامنے رکھی یہ شرط

سال 2017 میں پاکستان سپرلیگ کے دوسرے سیزن کے دوران ان کا نام اسپاٹ فکسنگ میں آیا تھا۔ 

Aug 11, 2019 08:21 PM IST | Updated on: Aug 11, 2019 08:26 PM IST
پی سی بی نے سزا کاٹنےکے باوجود کرکٹ میں واپسی کے لئےشرجیل خان کےسامنے رکھی یہ شرط

شرجیل خان اسپاٹ فکسنگ کے سبب 2017 سے پابندی کا سامنا کررہے تھے۔

اسپاٹ فکسنگ معاملے میں پھنسے پاکستان کے سابق سلامی بلے باز شرجیل  خان نے 30 مہینے کی سزا ہفتہ کو پوری کرلی، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واضح کردیا کہ کرکٹ میں واپسی کے لئے انہیں اپنی غلطی کا اعتراف کرکے بدعنوانی مخالف بازآبادکاری پروگراموں میں حصہ لینا ہوگا۔

شرجیل خان کو پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) میں فکسنگ کا قصوروارپائے جانے کے بعد اگست 2017 میں پانچ سال معطلی کی سزا دی گئی تھی، لیکن پی سی بی کی بدعنوانی مخالف ٹریبونل نے ان کے معطلی کی نصف سزا منسوخ کردی تھی۔ پی سی بی کی بدعنوانی مخالف ٹریبونل نے شرجیل خان کے ساتھ خالد لطیف، محمد عرفان، محمد نواز، نصیرجمشید جب شہبازحسن کوبھی میچ فکسنگ میں شامل پایا تھا۔

Loading...

پی سی بی کےایک افسرنے کہا کہ شرجیل خان کو ستمبرمیں ہونے والے قائد اعظم ٹرافی میں کھیلنےکا موقع مل سکتا ہے، لیکن اس کے لئے انہیں اسپاٹ فکسنگ میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کرنا ہوگا اوراپنے کاموں کے لئے معافی مانگی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سلمان بٹ اور محمد آصف کوبھی کرکٹ میں واپسی کے لئے 2015 میں ایسا ہی کرنا پڑا تھا۔ شرجیل خان سے منسلک ایک ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے اپنے خلاف لگے پانچ ملزمین کومان لیا، لیکن یہ اعتراف نہیں کیا کہ وہ اسپاٹ فکسنگ میں شامل تھے اوراس سے انہیں مالی فائدہ ہوا تھا۔

سال 2017 میں عائد کی گئی تھی پابندی

واضح رہے کہ 29 سال کے شرجیل خان آج کرکٹ سے دورہیں۔ وہ پاکستان میں کسی بھی لیول پرکرکٹ نہیں کھیل رہے ہیں۔ دراصل سال 2017 میں پاکستان سپرلیگ کے دوسرے سیزن کے دوران ان کا نام اسپاٹ فکسنگ میں آیا تھا۔ پی ایس ایل -2 کے پہلے ہی میچ میں شرجیل خان اورخالد لطیف اسلام آباد یونائیٹیڈ کے لئے کھیل رہے تھے اوردونوں کو پانچ اینٹی کرپشن ضوابط کی خلاف ورزی کا قصوروارپایا گیا تھا۔ اس کے بعد 30 اگست 2017 کو شرجیل خان پرپانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

Loading...