!چار سالوں سے ایم ایس دھونی کے ساتھ ہے یہ دقت، اس لئے خطرے میں کریئر

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے دوران ہی دھونی کے سنیاس کی مانگ اٹھنے لگی تھی۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟

Jul 18, 2019 08:37 AM IST | Updated on: Jul 18, 2019 10:33 AM IST
!چار سالوں سے ایم ایس دھونی کے ساتھ ہے یہ دقت، اس لئے خطرے میں کریئر

ایم ایس دھونی

ایم ایس دھونی ہندستان کا ایک ایسا کھلاڑی ہے جس نے اپنے 15 سال کے کرکٹ کریئر میں کئی تاریخ رقم کی۔ ایک ایسا کپتان جس نے 22 گز کی پچ اور 70 گز کے گھیرے میں ہندستان کو ایک نہیں دو مرتبہ چیمپئن بنایا۔ ایک ایسا بلے باز جس نے ون ڈے  کرکٹ میں 10 ہزار سے زیادہ رن بنائے۔ ایک ایسا بلے باز جس نے مڈل آرڈر میں آکر ٹیم انڈیا کو کئی ہاری بازی جتائی۔

حالانکہ اب ماہی کے اندر وہ میجک(جادو) نہیں رہا۔ اب دھونی کا کریئر ڈھلان پر ہے اوراسی لئے ان کے سنیاس کی مانگ مسلسل تیز ہورہی ہے۔ حالانکہ اب بھی کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ دھونی میں اب بھی جان باقی ہے اور وہ کم از کم اگلے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم انڈیا کا حصہ رہ سکتے ہیں۔ حالانکہ اعدادوشمار تو اس کی تصدیق نہیں کرتے۔

دھونی کا بیحد خراب ٹی 20 ریکارڈ

Loading...

سب سے پہلے بات کرتے ہیں دھونی کے ٹی 20 ریکارڈ کی جو کہ بیحد ہی خراب ہے۔ ویسے تو دھونی نے ٹی 20 میں  37.6 کے اوسط سے 1617رن بنائے ہیں لیکن یہاں غور کرنےوالی بات یہ ہے کہ وہ 42 مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے ہیں۔ اگر ہم ان کی اننگز کے حساب سے ان کا بلے بازی اوسط نکالیں تو وہ گھٹ کر محض 19.02  رہ جاتا ہے۔ ٹی 20 میں دھونی نے صرف 2 نصف سنچری لگائی ہے اور ان کا اسٹرائک ریٹ بھی 126.13 ہے جو ان کے آئی پی ایل اسٹرائک ریٹ سے 14 پوائنٹ کم ہے۔ یہی نہیں ٹی 20 کرکٹ میں دھونی اننگ میں محض 1.98 باؤنڈری لگاتے ہیں جوکہ آئی پی ایل میں تقریبا 3 ہے۔ سال 2017 سے ڈیتھ اوورس میں دھونی کا اسٹرائک ریٹ بھی محض 125 ہے۔ 

بیحد خراب ون ڈے ریکارڈ

دھونی کا تازہ ون ڈے ریکارڈ ان کے خلاف جارہا ہے۔ سال 2015 کےورلڈ کپ سے ان کا مظاہرہ مسلسل گررہا ہے۔ 2016 اور 2018 تو ان کے کریئر کے سب سے خراب سالوں میں سے ایک ہیں۔ سال 2016 میں انہوں نے محض 27.8  کی اوسط سے 278 رن بنائےاور 2018 میں ان کا اوسط گر کر 25 ہوگیا۔ سال 2017 میں ان کا اوسط بڑھ کر 60.61  ہوا۔ اس سال بھی ان کا اوسط 60 سے زیادہ کا ہے لیکن دھونی کا اوسط نہیں ان کا اسٹرائک ریٹ ٹیم انڈیا کی فکر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

گزشتہ چار سالوں میں ایم ایس دھونی کا اسٹرائک ریٹ کافی کم ہوگیا ہے۔ سال 2018 میں ان کا اسٹرائک ریٹ صرف 71.42 رہا۔ سال 2019 میں دھونی نے چیز کرتے ہوئے 8 اننگز میں 404 رن ضرور بنائے لیکن ان کا اسٹرائک ریٹ محض 76.66  رہا۔ سال 2019 ورلڈ کپ میں وہ چیز کرتے ہوئے ٹیم انڈیا کودو میچ جتانے میں ناکام رہے۔ پہلا میچ تھا انگلینڈ کے خلاف اور دوسرا میچ تھا نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ سیمی فائنل میں۔ صاف ہے دھونی کے اندر رن بنانے کی بھوک ضرور ہے لیکن اب وہ پہلے جیسے تیز بلے باز نہیں رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگ ان کےسنیاس کی مانگ کرنے لگے ہیں۔

Loading...