2 brothers raped a woman for 4 years in faridabad– News18 Urdu

لڑکی کا 4 سال تک یرغمال بناکر 2 بھائیوں نے کیا ریپ، کئی بار ہوئی حاملہ تو کرادیا اسقاط حمل

ایک لڑکی کا اغوا کرکے 4 سال تک یرغمال بنا کر عصمت دری کرنے ، اس کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور تقریبا ڈیرھ مہینے تک بھوکا رکھنے کا دل دہلانے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ لڑکی کے جسم پر چوٹ کے اتنے گہرے نشان ہیں جنہیں دیکھ کر روح کانپ جائے۔

Jan 04, 2019 08:51 AM IST | Updated on: Jan 04, 2019 08:59 AM IST

دہلی سے متصل فریدآباد میں ایک لڑکی کا اغوا کرکے 4 سال تک یرغمال بنا کر عصمت دری کرنے ، اس کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور تقریبا ڈیرھ مہینے تک بھوکا رکھنے کا دل دہلانے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ لڑکی کے جسم پر چوٹ کے اتنے گہرے نشان ہیں جنہیں دیکھ کر روح کانپ جائے۔ موقع پاکر بھائیوں کے چنگل سے بھاگی لڑکی راستے میں بیہوش ہو کر گر گئی۔ سڑک کنارے بہیوش لڑکی کو دیکھ کر آس۔پاس موجود این جی او کو فون کر کے بلایا جس نے سنگین حالت میں لڑکی کو سول اسپتال میں ڈاخل کرا دیا جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔ فی الحال پولیس نے لڑکی کے بیان پر معاملہ درج کرکے آگے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

متاثرہ کے مطابق اغوا کرنے والے پردیپ نے اسے شادی کا جھانسہ دیکت مسلسل 4 سال تک ریپ کیا۔ اس دوران کئی مرتبہ لڑکی حاملہ ہوئی لیکن ملزم پردیپ نے زبردستی اس کا اسقاط حمل کروا دیا۔ متاثرہ کے مطابق 8 مہینے پہلے ملزم نے فریدآباد میں رہ رہے بھائی اور ماں کے پاس اسے چھوڑ دیا لیکن اس کے ساتھ مارپیٹ، ظلمو ستم کی داستاں پھر شروع ہوئی تو ملزم پردیپ کے منصوبے سامنے آنے لگے۔ جہاں اس کا چھوٹا بھائی اس کے ساتھ زبردستی ریپ کرنے لگا۔

لڑکی کا 4 سال تک یرغمال بناکر 2 بھائیوں نے کیا ریپ، کئی بار ہوئی حاملہ تو کرادیا اسقاط حمل

اسپتال میں چل رہا متاثرہ کا علاج

Loading...

متاثری کے مطابق اس میں ملزموں کی مان بھی ان کا پورا ساتھ دیتی تھی۔ متاثرہ نے بتایا کہ نہ تو اسے کھانا دیا جاتا تھا اور نہی کہیں باہر جانےدیا جاتا تھا بلکہ جب گر کت لوگ باہر جاتے تھے تو اسے کمرے میں بند کرکے جاتے تھے۔

اتنا ہی نہیں متاثرہ نے بتایا کہ اس کو کھانے کیلئے اس وقت کا انتظار کرناپڑتا تھا جب دوسروں کی نظر سے وہ بچ سکے تو وہ کچن سے کچھ چرا کر کھالے یا چوری چھپے پانی پی لے۔ 4 سال سے غائب اپنی بیٹی کے ملنے کے بعد اس کی مں سے بات کی گئی تو ماں کے منھ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ بس اس کی دبی آواز ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھی۔

Loading...