american case of teacher who sexually abused 13 year old studen خاتون 27 سالہ ٹیچر نے 13 سال کےاسٹوڈینٹ سے بنائے جسمانی تعلقات اور وہاٹس ایپ پر بھیجی پورن ویڈیوز، ایسے ہوا انکشاف– News18 Urdu

ٹیچر نے بھیجیں 13 سال کےاسٹوڈینٹ کو پورن ویڈیوز، ماں نے اس ایپ کے ذریعے کیا سنسنی خیز انکشاف

جب جذبات حاوی ہوجاتے ہیں تو ہوش کنارے لگ جاتا ہے۔۔سرخیوں میں بنے اس کیس کی کہانی اسی طرح ہے کہ ایک ٹیچر اپنے اسٹوڈینٹ کے ساتھ تعلقات بنانے کی دھن میں ساری حدیں توڑ دیتی ہے۔۔ جانئے کیا ہے پوری رونگٹے گھڑے کر دینے والی کہانی۔۔

Dec 22, 2018 08:04 AM IST | Updated on: Dec 22, 2018 03:40 PM IST

بند دروازے کے چاپی کے سراخ یعنی (کی ہول) سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہی اندر کمرے کی بتی بند ہو گئی۔ پپھر اس نے کان لگاکر سننے کی کوشش کی تو اسے عجیب سی آوازیں سنائی دیں۔ وہ بے چین تھی اور شک کو پختہ کرنا چاہتی تھی اس لئے اس نے موبائل فون کا سہارا لیا۔ کافی سرچ کے بعد اسے ایک ترکیب سوجھ گئی۔ کچھ وقت میں جب سچ کا انکشاف ہوا تو اس کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ وہ گنہگار لڑکی کو جیل پہنچانے کی ضد پر اڑ چکی تھی۔

یہ کہانی ہے ایک ٹیچرکی جو 'لو اسٹوری' اور "لسٹ اسٹوری" میں فرق کو وقت رہتے سمجھ نہیں سکی۔ امریکہ کے ایریزانا میں ایک اسکول تھا لاس بریساز اکاڈمی پرائمری اور مڈل کلاس کو پڑھانے کا ذمہ 27 سالہ برتنی کا تھا۔ برتنی اپنی کلاس میں بچوں کی چہیتی ٹیچر بھی تھی لیکن ان بچوں کو قطعی احساس نہیں تھا کہ ان کہ فیورٹ یعنی پسندیدہ ٹیچر کس حد تک جا سکتی ہے۔

ٹیچر نے بھیجیں 13 سال کےاسٹوڈینٹ کو پورن ویڈیوز، ماں نے اس ایپ کے ذریعے کیا سنسنی خیز انکشاف

علامتی تصویر

چھٹویں کلاس میں پڑھنے والے قریب 13 سال کے ایک اسٹوڈینٹ ویلی کو دیکھ کر برٹنی کا دل پھسلنا شروع ہوا۔ پہلے۔۔۔پہل بریتنی کو لگا کہ وہ ویلی کو اچھے اسٹوڈینٹ کے طور پر پسند کرتی تھی۔ ویلی مزاس سے شانت اور دکھنے میں بھولا۔بھالا لڑکا تھا جو ٹین ایج میں قدم رکھ ہی رہا تھا۔ ادھر بریتنی شادی شدہ لڑکی تھی لیکن اپنی شادی شدہ زندگی سے اسے کئی طرح کی کمیاں محسوس ہوتی تھیں۔

انہیں حالات میں بریتنی نے کچھ ایک بار ویلی کو چھیڑنا شروع کیا تو ویلی کی شرم اور ہچک  دیکھ کر اسے مزا آنے لگا۔ باتوں ۔باتوں میں بریتنی اکثر 13 سالہ ویلی کو جان بوجھ کر چھوا کرتی تھی۔ وہ ویلی کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن اسکول کے ماحول میں ویلی بیحد جھجھک جاتا تھا۔ اب بریتنی کو ایک خاص ترکیب کا سہارا لینا تھا تاکہ اس کی کوشش چال نہ لگے۔

Loading...

بریتنی نے سب اسٹوڈینٹ کے موبائل نمبر لئے اور "کلاس کرافٹ " کے نام سے ایک چیٹ روم بنایا۔ چیٹنگ کے اس سلسلے کیلئے وہ جب بھی چھٹی پر جاتی تو سبھی اسٹوڈینٹ سے کہہ دیتی کہ چیٹنگ کے ذریعے وہ ان کے ٹچ میں ہمیشہ ہے۔ اسی کے چلتے بریتنی نے ویلی کے ساتھ پرسنل چیٹنگ شروع کی اور باتوں ۔باتوں میں اسے چھیڑنا اوراسے اپنی طرف کھینچنے کی حدیں توڑنی شروع کیں۔

کاش تم میرے ساتھ ہی رہ سکتے۔۔۔ 'Omg, you’re so cute baby...

چیٹنگ پرویلی سے اس طرح  کی باتیں کرنےوالی بریتنی نے جلد ہی اسے اپنی سیکسی تصویریں بھیجنا شروع کیں۔ جب اسکول میں ویلی اکیلا ملا تو بریتنی نے اس سے اپنی تصویروں کے بارے میں پوچھا۔ ویلی نے شرماتے ہوئے آخرکار ان فوٹوز کی تعریف کی۔ تب پہلی مرتبہ بریتنی نے ویلی کو چوما اور ویلی دیکھتا رہ گیا۔

ٹیچربریتنی: تم گھبراتے کیوں ہو؟ تم بڑے ہو رہے ہو، بچے نہیں ہو۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں اور بیحد پیار کرنا چاہتی ہوں۔ چلو آؤ!۔

اسٹودینٹ ویلی: لیکن میم کہاں؟

ٹیچربریتنی: ڈونٹ وری میں تمہیں جہاں لے جارہی ہوں، وہاں تمہیں مزہ آئے گا۔ ڈرو نہیں ویلی۔، تم مجھے چاہتے ہو نا؟ مجھ پر یقین ہے نا؟

ویلی چپ رہا اور حامی میں اس کے سر ہلانے کے بعد بریتنی اسے پکڑ کر پارکنگ میں اپنی کار میں لے گئی۔ اس کار میں پہلی بار بریتنی نے ویلی کو سمجھاتے اور پھسلاتے ہوئے جسمانی تعلقات بنائے۔ اس کے بعد ویلی بہت گھبرا گیا تھا لیکن بریتنی اس سے بار۔بار پیار کا اظہار کرتے ہوئے اسے سمجھا دیا کرتی کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ویلی نے نارمل دکھنے کی کوشش کی اور پھر لوٹ گیا۔

اب گھر جاکر ویلی اپنی ایک عجیب کشمکش میں تھا۔ اس کی زندگی میں یہ تجربہ پہلی مرتبہ ہوا تھا اس لئے اس کے من میں کئی طرح کے جذبات اور سوال اٹھ رہے تھے اس کے اندر شرم ، ڈر اور ایک دلچسپی پیدا ہو رہی تھی اور اس ملے جلے تجربےت کی وجہ سے وہ کچھ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کس سے کیا بات کرے اس لئے وہ اپنے آپ کو اکیلا کر لینا چاہتا تھا۔

اب یہ سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اسکول میں پارکنگ میں یا کسی اور کونے میں جہاں موقع ملتا بریتنی ویلی کے ساتھ جسمانی تعلقات بناتی اور ویلی اپنی ٹیچر کی بات ٹال نہیں پاتا۔ ویلی کی حالت یہ تھی کہ وہ بریتنی کے اشارے پر چلنے والا ایک اچھا طالب علم بن کر رہ گیا تھا اور بریتنی نے دھیرے ۔ دھیرے اس کے سوال اور ڈر کی باتیں بھی سننا بند کر دی تھیں۔

ویلی کی زندگی میں اتھل ۔ پتھل مچی ہوئی تھی اور اس کے برتاؤ سے بیت کچھ ظاہر ہو رہا تھا۔ وہ گھر میں زیادہ تر تنہا رہنے لگا تھا۔ سب کے ساتھ کھانا نہیں ، اٹھنا۔بیٹھنا نہیں اور بات چیت نہ کرنا اس کی عادت ہوتا جا رہا تھا۔ اسی درمیان ویلی کی سوتیلی ماں وینا نے دیکھا کہ وہ کچھ دنوں سے رات ہوتے ہی اپنے کمرے کی لائٹ بند کر دیتا تھا۔ ویلی کی ماں کو شک ہوا اور اس نے کچھ ایک بار دروازے پر کان لگاکر سننے کی کوشش کی۔

ویلی کی سوتیلی ماں وینا نے کچھ عجیب سی آوازیں محسوس تو کیں لیکن اسے سمجھ نہیں آیا کہ ماجرا کیا ہے۔ وینا نے انٹرنیٹ پر سرچ کرنے کے بعد ایک پرینٹل مانیٹرنگ ایپ 'سینٹری" کھوجا۔ اسے ڈاؤنلوڈ کرکے چپکے سے موقع پاکر ویلی کے فون میں بھی انسٹال کردیا۔ ادھر بریتنی اب ویلی کے فون پر اپنی فحش تصویروں کے ساتھ ہی کئی طرح کی پورن اور پر فیلنگس (جذبات) پیداکرنے والے ٹیکس ، فوٹو اور ویڈیو بھیجا کرتی تھی۔

اس ایپ کے ذریعے وینا کے فون پر الرٹ آنے شروع ہو گئے کہ ویلی کے فون پر کس طرح کا کانٹینٹ پڑھا جا رہا تھا۔ اب وینا نے صحیح وقت دیکھ کر ویلی سے بات چیت کی۔ کچھ وقت میں ویلی نے اپنی پریشانی اور بریتنی کے ساتھ بن رہے ایک رشتے کا پورا سچ بیان کر دیا۔ یہ سب سننے کے بعد وینا کی حیرت کا کا ٹھکانہ نہیں اس کے پاآں تلے زمین کھسک گئی۔ اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کی کچی عمر کے لڑکے کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے بریتنی پیار کی آڑ میں کھلونے کی طرح استعمال کر رہی تھی۔

اب وینا نے اس معاملے کو اٹھایا۔ بریتنی کے گھر تک بات پہنچی اور اس کے شوہر کو یہ سب پتہ چلا تو اس نے بریتنی کے ساتھ کافی جھگڑا کرنے کے بعد اس معاملے میں بریتنی کو بچانے کی کوشش کی۔ اس نے وینا کے ساتھ معاملے کو سیٹل کرنے کی کوشش کی لیکن وینا نے معاملے کو دبانے کے بجائے قانونی لڑائی کا من بنا لیا تھا۔ وینا نے ویلی کےوالد کے ساتھ مل کرویلی کی طرف سے قانونی مقدمہ دائر کرایا۔

اسی سال مارچ میں بریتنی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تب سے یہ کیس سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ سیکسوئل ابیوز کے اس کیس میں پہلے بریتنی نے اپنی غلطی نہیں مانی تھی لیکن گزشتہ کچھ دنوں اس کیس میں بریتنی نے کافی کچھ قبول کر لیا ہےاور وہ معافی مانگ رہی ہے۔ اسبھی اس معاملے میں کورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے۔

۔(حقیقی واقعات پر مبنی محبت اور دھوکہ دہی کی اس کہانی میں متاثر کرداروں کے نام حقیقی نہیں ہیں)۔

Loading...