۔"ممی - پاپا سے دور لے جاکر میرے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی ، انہیں پلیز پھانسی دے دو "۔– News18 Urdu

۔"ممی - پاپا سے دور لے جاکر میرے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی ، انہیں پلیز پھانسی دے دو "۔

میرے ممی -پاپا سے دور لے جاکر ان درندوں نے میری آبروریزی کی ، انہیں پھانسی کی سزا ملنی چاہئے ، تبھی مجھے انصاف ملے گا۔

Jun 15, 2018 10:39 PM IST | Updated on: Jun 15, 2018 11:26 PM IST

میرے ممی -پاپا سے دور لے جاکر ان درندوں نے میری آبروریزی کی ، انہیں پھانسی کی سزا ملنی چاہئے ، تبھی مجھے انصاف ملے گا۔ الفاظ سے بیان ہوتا یہ درد ایک اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ کا ہے۔ رو رو پولیس - انتظامیہ سے فریاد کرتی یہ معصوم اپنے آپ کیلئے صرف انصاف چاہتی ہے۔ جمعرات کو پیش آئے اس واقعہ کے بعد متاثرہ کنبہ پولیس کے پاس بیان درج کرانے کیلئے پہنچا تھا ۔ جہاں پولیس نے اجتماعی آبروریزی متاثرہ ماں اور نابالغ بیٹی کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا۔

یہ پورا واقعہ گیا ضلع کے سونڈیہا گاوں کے پاس گیا- رفیع گنج شاہراہ پر پیش آیا۔ جہاں آنتی تھانہ حلقہ کا رہنے والا ایک ڈاکٹر کنبہ جمعرات کو ریلوے اسٹیشن سے گھر لوٹ رہا تھا ۔ سونڈیہا گاوں کے پاس تقریبا دس سے زیادہ ملزموں نے ان کی موٹر سائیکل کو روک لیا اور ڈاکٹر کے ہاتھ پاوں باندھ دئے اور ان کی اہلیہ اور بیٹی کی آبروریزی کی ۔

۔

علامتی تصویر

حالانکہ اس واقعہ میں متاثرہ کنبہ نے پہلے سماج کے ڈر سے نابالغ بیٹی کی آبروریزی کی بات سے انکار کیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کے ساتھ صرف چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے ۔ تاہم بعد میں ڈاکٹر والد نے خود پولیس کے سامنے اجتماعی آبروریزی کی بات تسلیم کی۔ والد کے مطابق ان کی آنکھوں کے سامنے بیوی اور بیٹی کےساتھ غلط کام کیا گیا ، لیکن وہ کچھ نہیں کرپائے۔

فی الحال پولیس نے اس معاملہ میں اب تک تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور باقی ملزموں کی گرفتاری کیلئے الگ الگ ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ ( ایلین للی کی رپورٹ)۔

Loading...

Loading...