crime minor girl after raped murder in murshidabad snm نابالغ بچی کی عصمت دری کے بعد قتل، لڑکی کے جسم پر متعدد زخم کے نشانات– News18 Urdu

نابالغ بچی کی عصمت دری کے بعد قتل، لڑکی کے جسم پر متعدد زخم کے نشانات

بتادیں کہ 12 سال کی بچی اپنے والد کو کھانا دینے کیلئے میدان میں گئی تھیں۔ جہاں وہ کام کررہے تھے۔اس کے بعد سے وہ گھر نہیں لوٹی۔رات میں 8 بجے تلاش بسیار کے بعد لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔

Jan 31, 2019 10:19 PM IST | Updated on: Jan 31, 2019 10:57 PM IST

مرشدآباد میں ایک خاندان نے پولس میں شکایت درج کرائی ہے کہ اس کی 12سالہ بیٹی کی عصمت دری کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ کل رات ہی لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ کولکاتہ سے 231کلو میٹر دور رانی تلہ علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔بدھ کی دوپہر 6ویں جماعت کی طالبہ اپنے والد کو کھانا دینے کیلئے میدان میں گئی تھیں۔ جہاں وہ کام کررہے تھے۔اس کے بعد سے وہ گھر نہیں لوٹی۔رات میں 8 بجے تلاش بسیار کے بعد لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔

لڑکی کے والد نے رانی تلہ پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کیعصمت دری کی گئی بعد میں لڑکی کاقتل کردیا گیا۔ لڑکی کے والدنے بتایا کہ ہم 4بجے کے بعد سے ہی لڑکی کی تلاش کررہے ہیں۔ لڑکی کے جسم پر متعدد زخم کے نشانات ہیں۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ لاش کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ ہوتا ہے کہ میری بچی کے ساتھ غلط کیا گیا ہے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر یہ کس نے کیا ہے اور میری بچی کے ساتھ کس کی دشمنی تھی۔

نابالغ  بچی کی عصمت دری کے بعد قتل، لڑکی کے جسم پر متعدد زخم کے نشانات

علامتی تصویر

رانی تلہ پولس انچارج سمیت ٹھاکر نے کہا کہ ہم نے لڑکی کے والد کی شکایت پر جانچ شروع کردی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ایک پولس آفیسر نے کہا کہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی گئی ہے اور اس کے بعد اس کا قتل کیا گیا ہے۔ یہ خاندان غریب ہے۔ابھی قتل کی وجہ معلوم نہیںپائی  ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں بنگال میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بنگال میں 2014-15اور 16میں بالترتیب خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی شرح11.31فصید، 10.11فیصد،9.6فیصد تھی۔جب کہ 2012میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح 12.67فیصد تھی۔جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔