بڑی کمپنی میں کام کرتی تھی لڑکی، جی بی روڈ پر بیچ دیا، روز 15 سے 20 آدمی کرتے تھے ریپ

خاتون کا کہنا ہے کہ روز 15 سے 20 آدمی اس کا ریپ کرتے تھے۔ 27 سال کی خاتون مغربی بنگال کی رہنے والی ہے۔ آج تک کے مطابق وہ کولکاتہ میں ایک بڑی کمپنی میں کام کررہی تھی لیکن اور بہتر نوکری کے نام پر اسے ایک آدمی دہلی لیکرآیا اور پھر اسے جبراً جی بی روڈ بھیج دیا گیا۔

Aug 10, 2019 01:24 PM IST | Updated on: Aug 10, 2019 01:25 PM IST
بڑی کمپنی میں کام کرتی تھی لڑکی، جی بی روڈ پر بیچ دیا، روز 15 سے 20 آدمی کرتے تھے ریپ

علامتی تصویر

دہلی کے ریڈ لائٹ ایریا (جی بی روڈ) میں ایک بڑی کمپنی میں کام کرنے والی خاتون سے جبراً بدکاری کا دھندہ کرایا جارہا تھا۔ ایک کسٹمر کی طرف سے مدد ملنے کے بعد خاتون کو بدکاری کے دھندے کے چنگل سے چھڑایا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ روز 15 سے 20 آدمی اس کا ریپ کرتے تھے۔ 27 سال کی خاتون مغربی بنگال کی رہنے والی ہے۔ آج تک کے مطابق وہ کولکاتہ میں ایک بڑی کمپنی میں کام کررہی تھی لیکن اور بہتر نوکری کے نام پر اسے ایک آدمی دہلی لیکرآیا اور پھر اسے جبراً جی بی روڈ بھیج دیا گیا۔ بعد میں خاتون کو ایک شخص نے جی بی روڈ میں بیچ دیا تھا۔

خاتون سے کوٹھا نمبر 68 میں جبراً بدکاری کا دھندہ کرایا جانے لگا۔ ایک دن بنگالی شخص کسٹمر کے طور پر خاتون سے ملا۔ خاتون نے اس سے مدد مانگی اور کسٹمر اس کیلئے تیار ہوگیا۔ خاتون نے کسٹمر کو اپنے بھائی کا فون نمبر دیا اس کے بعد کسٹمر نے فون کرکے بہن کے بارے میں اس کے بھائی کو بتایا۔ بھائی دہلی آیا اور کسٹمر بن کر اسی کوٹھے پر پہنچا۔

خود اپنی بہن سے کوٹھے پر ملنے کے بعد بھائی نے دہلی خواتین کمیشن سے مدد کیلئے رابطہ کیا۔ دہلی خواتین کمیشن اور دہلی پولیس کے تعاون سے خاتون کو کوٹھا نمبر 68 سے چھڑا لیا گیا۔ دہلی آنے کے بعد جی بی روڈ پر بیچ دئے جانے کی وجہ سے خاتون اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر پارہی تھی۔ اس کے بھائی نے کولکاتہ میں گمشدگی کا معاملہ بھی درج کرایا تھا۔

بتا دیں کہ 8 اگست کو خاتون کو چھڑانےکے بعد دہلی پولیس نے اس معاملے میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کوٹھے کے منیجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خاتون ٹھیک 2 مہینے پہلے 8 جون کو دہلی آئی تھی۔

Loading...

 

Loading...